ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 532 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 532

لیک ڈیف 532 سورائیم وغیرہ کی سردی سے بہت مختلف ہے۔اس میں سارا بدن ہی ٹھنڈا ہوتا ہے۔مریض سردی سے اس حد تک زود حس ہو جاتا ہے کہ بند کمرے میں جہاں ہوا کا نام ونشان بھی نہ ہو وہ ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرتا ہے اور اعصابی اور بائی کی دردوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ویسے تو عموماً سارے جسم میں ہی درد ہوتا ہے لیکن سر میں خاص طور پر زیادہ تکلیف محسوس ہوتی ہے۔یہ درد تعفنی مادوں کی وجہ سے نہیں بلکہ بائی کا درد (Rhematic) ہوتا ہے۔چہرے اور سر کے اعصابی ریشوں میں شدید درد ہوتا ہے۔اگر مریض بہت ٹھنڈا ہو تو لیک ڈیف کو یا درکھنا چاہئے۔لیک ڈیف کی تکلیفوں کو گرمی پہنچانے سے فائدہ ہوتا ہے لیکن مریض کسی صورت گرم ہونے میں نہیں آتا۔ہمیشہ ٹھنڈا ہی رہتا ہے۔آرام اور دباؤ سے درد میں افاقہ ہوتا ہے۔جلد بہت زودحس ہو جاتی ہے۔یہ زود حسی بعض اور دواؤں میں بھی پائی جاتی ہے۔لیک کینا ئینم میں جلد کی زود حسی دردوں کے احساس سے تعلق رکھتی ہے لیکن لیک ڈیف میں محض سردی سے۔ایک ڈیک ایک ایسی دوا ہے جسے عموما ذیا بیس میں نظر انداز کیا گیا ہے۔حالانکہ اگر اس کی دوسری علامتوں کے ساتھ ذیا بیطس بھی ہو تو یہ خدا کے فضل سے اکیلی ہی مکمل شفا بخشنے کی طاقت رکھتی ہے۔بعض دفعہ اونچی طاقت میں ایک ہی خوراک مریض کو ٹھیک کر دیتی ہے۔میں نے بارہا ذیا بیطس کے مریضوں کو ٹھیک ہوتے دیکھا ہے۔یہ کوئی ایسی بیماری نہیں ہے کہ ہر مریض کو مسلسل دواؤں کا محتاج رہنا پڑے۔مناسب ہو میو پیتھک علاج سے مرض سرے سے غائب ہوسکتا ہے لیکن بہت سے مریضوں کا مسلسل علاج بھی کرنا پڑتا ہے۔ذیابیطس کے مریضوں سے تعلق رکھنے والی بعض علامتیں مثلاً پیشاب کی کثافت، بار بار پیشاب کا آنا ، شدید پیاس لیک ڈیف میں بغیر ذیا بیطیس کے بھی پائی جاتی ہیں۔ہومیو پیتھی دوائیں بیماریوں کے مخصوص گروہوں سے تعلق رکھتی ہیں۔اگر بنیادی علامتوں کا علاج کیا جائے تو اس گروہ سے تعلق رکھنے والے دیگر امراض بھی دور ہو سکتے ہیں۔