ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 498
498 کالی کارب کالی کا رب میں ایک ہی مقام پر جامد اور کھڑے درد بھی پائے جاتے ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرنے والے درد بھی۔کمر کا درد عموماً ایک مقام پر ٹھہرارہتا ہے لیکن وضع حمل کے دوران اس میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔اگر رات کو لحاف اتر جائے اور سرد ہوا کے جھونکوں سے کمر میں درد ہونے لگے تو کالی کا رب بہت مفید ہے۔میں نے اسے اپنے اوپر اور دوسروں پر بار ہا آزمایا ہے۔ایک دفعہ سفر کے دوران رات کو تین چار بجے کے قریب میری آنکھ کھلی تو کمر میں شدید دردتھا حالانکہ اللہ کے فضل سے مجھے عموماً کمر درد نہیں ہوتا۔میں نے کالی کارب 30 کی ایک خوراک کھائی جس سے فوری فائدہ ہوا اور دوبارہ یہ تکلیف نہیں ہوئی۔گو کالی کا رب میں اکثر سردی سے تکلیف بڑھتی ہے مگر ماؤف مقام گرم محسوس ہوتے ہیں جن میں بیرونی سردی سے آرام نہیں ملتا۔ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے بعض دفعہ اعصاب کے ریشوں میں آگ سی لگ جاتی ہے اور گرمی دانے نکل آتے ہیں۔یہ اس دوا کا طرفہ تماشا ہے کہ ٹھنڈی ہوا سے تمازت کا احساس کم ہونے کی بجائے بڑھ جاتا ہے جسے گرمی سے آرام آتا ہے۔نزلہ شروع ہو جائے تو عموما سر میں بھی درد ہونے لگتا ہے۔سرا گر خالی خالی اور کھوکھلا سامحسوس ہو اور پھر درد ہو تو یہ کالی کا رب کی خاص علامت ہے۔ضمنا یہ یا درکھیں کہ نزلہ جمنے کی وجہ سے اگر سائنس (Sinus) کا درد شروع ہو جائے تو نکس وامیکا کی ایک ہزار طاقت کی ایک ہی خوراک اکثر شافی ثابت ہوتی ہے۔مثانے کے نزلہ میں اگر بار بار پیشاب کی حاجت ہو تو بعض صورتوں میں کالی کا رب کی بجائے کالی فاس سے فائدہ ہوتا ہے لیکن کالی فاس میں دن کے وقت تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد حاجت ہوتی ہے جبکہ کالی کا رب میں رات سونے کے بعد مریض بار بار پیشاب کے لئے اٹھتا ہے خصوصاً رات کو تین چار بجے تکلیف میں بہت اضافہ ہو جاتا ہے۔اگر رات کے وقت پیشاب کی غیر معمولی حاجت شروع ہو جائے جو ذیا بیطس کی وجہ سے نہ ہو تو کالی کارب کے علاوہ آرسنک بھی مفید ہوتی ہے بشرطیکہ اس کی دوسری علامتیں بھی ملتی