ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 497
کالی کارب 497 جائیں یا سردرد شروع ہو جائے تو اسہال کے لئے کالی کارب اور سر درد کے لئے جلسیمیم بہترین دوائیں ہیں۔اگر نکس وامیکا دیتے دیتے ایک دم اسہال شروع ہو جائیں تو کالی کارب کی ایک دو خوراکوں سے ہی خدا کے فضل سے مریض صحت یاب ہو جاتا ہے لیکن اسے زیادہ دیر استعمال نہ کریں اور نہ قبض ہو جائے گی۔اگر ایک دو خوراکوں سے فائدہ ہو جائے تو اسے بند کر دیں۔کالی کا رب میں چڑ چڑا پن بہت نمایاں ہوتا ہے جوا کثر اعصابی تکلیفوں میں ہوتا ہے۔اکیلے پن کا خوف بھی اس کی ایک علامت ہے۔مریض تو ہمات کا شکار ہو جاتا ہے لیکن ان تو ہمات کا مریض کی تنہائی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔تو ہمات اس کی زندگی کی ایک عادت بن جاتے ہیں۔ہاں اکیلے پن سے گھبراہٹ ضرور ہوتی ہے۔مریض گرمی اور سردی دونوں سے زود حس ہوتا ہے۔مریض بہت زودرنج اور جلد طیش میں آنے والا ہوتا ہے۔دانتوں کو گرم چیز لگنے سے بھی تکلیف ہوتی ہے اور ٹھنڈی چیز لگنے سے بھی۔بعض دفعہ دانت سردی سے بہت زود حس ہو جاتے ہیں۔اس کے مریضوں میں پائیوریا کی علامتیں بھی ملتی ہیں۔دانتوں کے اردگرد گوشت میں سوزش ہو جاتی ہے اور مسوڑھے گلنے سڑنے لگتے ہیں۔پیپ بھی نکلتی ہے۔ایسے مریض سردی کو بہت زیادہ محسوس کرتے ہیں لیکن کالی کارب کے انہی مریضوں کو اگر ٹھنڈے برف جیسے پانی کی ٹکور کریں تو اعصاب بے حس ہو جاتے ہیں اور سکون محسوس کرتے ہیں۔یہ فائدہ وقتی ہوتا ہے، گرم ہونے پر تکلیف پھر واپس آجائے گی۔گرمی بھی تکلیف دہ ہوتی ہے۔اس سے جلن کا احساس بڑھتا چلا جاتا ہے اور گرمی نا قابل برداشت ہو جاتی ہے۔مرکسال میں بھی دانتوں کی تکلیف گرمی اور سردی دونوں سے بڑھتی ہے۔دانتوں کا نظام جواب دے جائے اور تعفن پیدا ہو جائے ، مسوڑھے گل سڑ جائیں اور خون اور پیپ آنے لگے تو کالی کا رب سے اس کا علاج ممکن ہے بشرطیکہ کالی کارب کی دیگر علامتیں بھی مریض میں پائی جائیں اور نہ مرکسال بھی دوا ہو سکتی ہے۔