ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 496
496 کالی کارب کالی کارب صحیح دوا ہے تو جسم کو فوری شفا کا حکم دے دے گی لیکن مریض میں طاقت ہی نہیں ہوگی کہ وہ اس بیماری کا مقابلہ کر سکے۔گاؤٹ یعنی نقرس کی علامات میں اگر صحیح تشخیص کے بعد کالی کا رب دوا تجویز ہو تو کچھ احتیاطوں کی ضرورت ہوتی ہے۔کالی کا رب کے استعمال سے پہلے ہمیشہ کار بوویج دیں۔کار بوویج مریض کو کالی کارب کے لئے تیار کر دیتی ہے اور اس کے بعد کالی کارب دینے سے سخت رد عمل نہیں ہوتا نیز کالی کا رب کو شروع میں 30 طاقت سے اونچا نہیں دینا چاہئے۔جب مریض اس کا عادی ہو جائے تو پھر بیشک طاقت بڑھا دیں۔جوڑوں کے درد کے علاوہ کمر کے پرانے درد سے بھی کالی کا رب کا گہرا تعلق ہے۔خاص طور پر بچے کی پیدائش کے بعد ہونے والے کمر کی تکالیف کالی کا رب کے مزاج سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔اگر وضع حمل کے بعد کمر درد ہونے والی شروع ہو تو بسا اوقات وہ مزمن ہو جاتا ہے اور جب تک کالی کا رب نہ دی جائے تو ٹھیک نہیں ہوتا۔تپ دق میں بھی کالی کا رب مفید ہے۔اگر پھیپھڑوں میں سوراخ ہو جائیں تو کالی کا رب ان سوراخوں کو بند کرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ جریان خون کی بھی بہترین دوا ہے اور ہر قسم کے جریان خون میں مفید ہے۔اگر انتڑیوں میں زخموں کے داغ ہوں تو بعض اوقات ان کی وجہ سے اجابت کے ساتھ خون آنے لگتا ہے۔یہ علامت اینٹی مونیم کروڈ میں بھی پائی جاتی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ اس میں کالی کا رب کی طرح نرم اجابت نہیں بلکہ سخت اجابت ہوتی ہے۔بعض اوقات کالی کا رب میں بھی سخت قبض کی علامت پائی جاتی ہے جس کے ساتھ خون کی آمیزش بھی ہوتی ہے لیکن یہ عام دستور نہیں۔کالی کا رب میں پیٹ میں شدید درد، بے چینی اور تشیخ کے علاوہ خون بھی آتا ہے۔کالی کا رب میں کئی قسم کے درد ملتے ہیں۔پیٹ میں شدید بے چینی اور تشیخ کے ساتھ خون کا اخراج پیچش کی اکثر دواؤں میں پایا جاتا ہے۔لہذا ضروری ہے کہ ہر دوا کی خصوصی علامات سے اسے پہچانا جائے۔کالی کا رب بعض اوقات نکس وامیکا کے غلط استعمال کا علاج بن جاتی ہے خصوصاً اگر نکس وامیکا کے زیادہ استعمال سے اسہال لگ