ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 492 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 492

کالی بائیکروم 492 کالی بائیکروم میں اسہال اور اجابت کے وقت درد ہوتا ہے یا حرکت سے درد ہوتا ہے۔اجابت کے وقت انتڑیوں میں ہونے والی حرکت سے جگر میں ٹانکہ بھرنے کی طرح کا چھنے والا درد ہوتا ہے۔تلی میں بھی چھن کا احساس ہوتا ہے۔پیٹ میں بہت ہوا پیدا ہوتی ہے اور فتح کی علامات ظاہر ہو جاتی ہیں۔جسم میں ہلکے ہلکے درد کا احساس رہتا ہے،انتڑیوں میں دکھن ہوتی ہے۔اسہال سے قبل معدے میں کمزوری اور ڈوبنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔متلی کے ساتھ قے ہونے لگتی ہے پھر اسہال شروع ہو جاتے ہیں۔کالی بائیکر وم میں اسی ترتیب سے یہ علامتیں پیدا ہوتی ہیں۔سلفر کی طرح صبح کے وقت اسہال شروع ہوتے ہیں۔ایسے اسہال میں جن کا رنگ مٹیالا ہو کالی بائیکروم بہت کام کرتی ہے۔کالی بائیکروم کی بائی کی دردیں بعض دفعہ نزلے کی بجائے پیچش سے اولتی بدلتی ہیں اور پیچش لگنے پر مریض کا بدن ہلکا ہو جاتا ہے۔حاجت سے پہلے اور رفع حاجت کے دوران درد ہوتا ہے اور فراغت کے بعد بھی بل پڑتا ہے کانچ بھی باہر نکل آتی ہے۔بواسیر کے مسے بھی باہر نکل آتے ہیں اور بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں۔کمر میں درد کے ساتھ پیشاب میں خون آتا ہو تو کالی بائیکروم کو بھی یاد رکھنا چاہئے۔پیشاب میں دھاگے دار رطوبت بھی نکلتی ہے۔پیشاب سے پہلے کمر کی دمچی میں درد ہوتا ہے۔یہ کالی بائیکر وم کی خاص علامت ہے۔کالی بائیکروم کی مریض عورتوں میں گرمیوں میں رحم کی تکالیف بڑھ جاتی ہیں۔حیض میں تیزابیت اور جلن پائی جاتی ہے۔وقت سے پہلے خون جاری ہو جاتا ہے۔بچوں کو دودھ پلاتے ہوئے دودھ کے دھاگے بنے لگیں تو کالی بائیکر وم خاص طور پر یا در کھنے کے لائق دوا ہے۔اگر دودھ میں دہی کی طرح پھٹکیاں بنے لگیں تو اس کے لئے فائٹولا کا (Phytolacca) بہترین دوا ہے جو حمل کی متلی میں بھی فائدہ مند ہے۔اگر کسی کی آواز مستقل بیٹھ جائے تو اس کے لئے کالی بائیکر وم بہت اچھی دوا ہے۔نرخرے میں خرخراہٹ کی آوازیں آئیں اور بلغم چمٹی رہے تو کالی بائیکروم سے فائدہ