ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 491 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 491

کالی بائیکروم 491 طبیعت بدمزہ ہو جاتی ہے۔کالی بائیکروم میں درد جگر سے کندھوں کی طرف حرکت کرتا ہے۔یہ ایک خطرناک علامت ہے۔جگر اور پتے کے کینسر میں یہ علامت ملتی ہے اور مریض کند ھے میں شدید درد کی شکایت کرتا ہے اس صورت حال میں کالی بائیکروم کو استعمال کرنا چاہئے۔یہ بھی ان تکلیفوں میں کام آتی ہے جن کا پتے کی پتھری سے تعلق ہو۔پتے کی پتھری اور جگر کا کینسرل کر کندھے میں درد پیدا کر دیتے ہیں۔یہ عجیب قسم کا تکلیف دہ درد ہوتا ہے۔جس کا کندھے کے عضلات سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔کالی بائیکر وم پتے کی پتھری اور جگر کی تکلیفوں میں بلا تاخیر شروع کروانی چاہئے۔اس کے اثر سے بسا اوقات پتے کی پتھریاں گھلنے لگتی ہیں اور آپریشن کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔صفراء میں خرابی پیدا ہو جائے تو پتے میں پتھری بنتی ہے۔اگر صفراء میں خشکی پیدا ہو جائے اور بہت چھوٹی چھوٹی گٹھلیاں بنے لگیں تو وہ پتے میں جا کر پتھریاں بنادیتی ہیں۔اگر صفراء کے کیمیائی مادے متوازن ہو جائیں تو وہ ایسی بنی ہوئی پتھر یوں کو پھر سے تحلیل کر دیتے ہیں۔میرے پاس پتے کی پتھریوں کے بہت مریض آتے ہیں۔چونکہ میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہر ایک کی علیحدہ علیحدہ تشخیص کر سکوں اس لئے کسی ایک دوا کی بجائے ایک مرکب نسخہ استعمال کرواتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اکثر مریضوں میں انتہائی کامیاب ثابت ہوا ہے۔اس کا ایک جزو کالی بائیکروم بھی ہے۔یہ نسخہ حسب ذیل ہے۔کالی بائیکروم، لائیکوپوڈیم، کولیسٹرینم، نیٹرم سلف 30 طاقت میں ملا کر دیں۔علاوہ ازیں تشیخ کو فوراً دور کرنے کے لئے میگ فاس، کولوسنتھ اور ڈانسکوریا کا مرکب 30 طاقت میں مددگار کے طور پر استعمال کرایا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ جرمنی میں ایک دو ملتی ہے جو بعض جڑی بوٹیوں سے بنائی گئی ہے اس کا نام او سپاٹیل (Ospafell) ہے۔یہ بھی پتے کی پتھری کو تحلیل کرنے میں بڑی شہرت رکھتی ہے۔یہ دوا اگر ہومیو پیتھک نسخہ کے ساتھ مددگار کے طور پر استعمال کی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں اور اگر نہ بھی کی جائے تو مذکورہ نسخہ بہر حال کارآمد ثابت ہوتا ہے۔