ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 486 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 486

486 کالی بائیکروم میں ہڈیوں کی صرف سطح پر دکھن اور رگڑ کا احساس ہوتا ہے۔کالی بائیکروم میں نزلاتی تکلیفیں جوڑوں کی اعصابی تکالیف سے اولتی بدلتی رہتی ہیں۔مگر بائی کے ان دردوں کا بہت احتیاط سے علاج کرنا چاہئے۔اگر کسی تیز دوا سے ٹھیک کر دی جائیں تو فائدہ کی بجائے نقصان ہو جاتا ہے اور زیادہ خطر ناک بیماری گھیر لیتی ہے۔کالی بائیکر وم بھی بائی کی دردوں کی دوا ہے۔یہ ان مریضوں پر استعمال کرنی چاہئے جن کے جسمانی درد ٹھیک ہوتے ہیں تو نزلاتی تکلیفیں شروع ہو جاتی ہیں۔اور نزلے کو کسی وقتی اور فوری دوا سے آرام دیں جو مرض کی اصل دوا نہ ہو تو اس کے نتیجہ میں بائی کی دردمیں دوبارہ اٹھ کھڑی ہوں گی۔جہاں بھی یہ ادل بدل پایا جائے وہاں کالی بائیکرو و یا درکھیں۔کالی بائیکر وم خناق (Diphtheria - دفتھیر یا ) کی بھی اچھی دوا ہے مگر میوریٹک ایسڈ (Muriatic Acid) کا مقابلہ نہیں جو خناق کی اولین دوا ہے اور انتہائی کمزوری کو بھی دور کرتی ہے۔عموماً پوٹاشیم کے سب نمکیات میں کمزوری کا بہت احساس پایا جاتا ہے۔مثلاً کالی فاس اعصابی طاقت کے لئے استعمال کی جاتی ہے اور اسی طرح کالی کارب کے بالمثل استعمال سے بدن اور عضلات میں نئی جان پڑ جاتی ہے۔ٹانگیں ہلکی ہو جاتی ہیں اور اٹھنے بیٹھنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔کالی بائیکروم بھی یہی مزاج رکھتی ہے۔اگر مریض کالی بائیکروم کا ہو تو دوا کھاتے ہی جسم ہلکا پھلکا ہو جائے گا۔پوٹاشیم کے تمام نمکیات عضلات اور اعصاب کے لئے مقوی(Tonic) کے طور پر مفید ہیں۔ان سب نمکیات میں زخم بنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔معدہ میں تیزا بیت زیادہ ہو جائے تو زخم بننے لگتے ہیں۔انتڑیوں میں یا کہیں اور زخم یا نا سور پائے جائیں تو یہ معلوم کرنا چاہئے کہ مریض کی علامات کسی پوٹاشیم کے نمک سے تو نہیں ملتیں۔ایک مریض کے پاؤں پر بہت گہرا اور پرانا ناسور تھا۔اسے میں نے کالی آیوڈائیڈ دی تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ ناسور غائب ہو گیا۔اس سے پہلے وہ بہترین فوجی ہسپتالوں میں داخل ہو کر علاج کروا چکا تھا۔میں نے محض اس لئے یہ دوا تجویز کی تھی کہ اس کی باقی علامات پوٹاشیم سے ملتی تھیں۔کالی بائیکروم معدے کی تکلیفوں میں بھی بہت مفید ہے۔معدے میں ناسور اور