ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 464 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 464

اگنیشیا 464 اسے جذبات دبانے کے بداثرات سے محفوظ رکھے گی۔اگنیشیا میں بچوں یا عزیزوں کی وفات کا صدمہ بہت شدت سے محسوس ہوتا ہے اور دور رس گہرے بداثرات باقی رہ جاتے ہیں۔ان سب میں اگنیشیا مفید ثابت ہوسکتی ہے لیکن میرا تجربہ ہے کہ غم اور صدمہ تازہ ہوں تو یہ بہت مفید ہے اور غم کے باقی رہنے والے بداثرات سے بھی بچاتی ہے۔ہاں اگر جسمانی عوارض کو پیدا ہوئے دیر ہو جائے تو پھر یہ مفید نہیں رہتی۔اگر غم کے بداثرات جسم کا حصہ بن چکے ہوں تو ان میں تین دوسری دوائیں یعنی ایمبر اگر یسا سلیشیا اور نیٹرم میور بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔بعض اوقات مریضہ نروس (Nervous) ہو تو وہ کا نپتی ہے اور اعصاب جھرجھری سی محسوس کرتے ہیں۔یہ کیفیت بڑھ کر تشنج میں تبدیل ہو جاتی ہے اور مریضہ بے ہوش ہو جاتی ہے جیسے ہسٹیریا کی مریضہ ہو۔یہ بے ہوشی مرگی کی علامت نہیں ہے بلکہ ایسی عورتوں میں بے ہوشی کا دورہ پڑنا ان کی اعصابی کمزوری کی علامت ہوا کرتا ہے۔اس بے ہوشی میں مرگی کی دوسری علامتیں موجود نہیں ہوتیں۔غم یا خوف وغیرہ کے اثرات کی شدت کے وقت جو بے ہوشی ہوتی ہے وہ اعصابی کمزوری کی بے ہوشی ہے۔گرم ممالک میں ہجوم اور جمگھٹے میں کئی عورتیں بے ہوش ہو جاتی ہیں۔اگنیشیا میں غم کے نتیجہ میں ایسے اثرات ظاہر ہوتے ہیں جو مرگی کی علامتوں سے مشابہ ہوتے ہیں۔اگنیشیا کی مریضہ میں مزاجی لحاظ سے یہ حیران کن بات پائی جاتی ہے کہ بعض دفعہ جب یہ توقع ہوتی ہے کہ اسے غصہ آ جائے گاوہ خوش ہوتی ہے اور خوشی کی بات پر اچانک ناراض ہو جاتی ہے۔اسی طرح جسمانی عوارض میں بھی یہ تعجب انگیز بات دکھائی دیتی ہے کہ جوڑ سوج جانے سے سخت تناؤ ہو اور جلد پر سرخی اور تمازت ظاہر ہو جائیں تو اس کے باوجود مریضہ کو کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔غرضیکہ جس مریضہ میں نفسیاتی عوارض یا جسمانی عوارض میں تضادات پائے جائیں ان کے لئے اگنیشیا ایک لازمی دوا ثابت ہوتی ہے۔اگنیشیا کے مریض کے گلے میں تکلیف ہو تو نگلنے سے آرام آتا ہے۔درد میں دباؤ سے آرام محسوس ہوتا ہے۔جس کروٹ پر تکلیف ہو مریض اسی کروٹ پر لیٹے گا۔