ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 463
اگنیشیا 463 117 اگنیشیا IGNATIA اگنیشیا غم کا اثر دور کرنے کے لئے چوٹی کی دوا ہے۔اگنیشیا کا مزاج رکھنے والی عورتیں بہت حساس ہوتی ہیں، اپنی عادات و خصائل میں نہایت شائستہ اور لطیف احساسات کی مالک ہوتی ہیں مگر نہایت چھوٹی موٹی اور نازک مزاج ، غم یا صدمہ کا بہت گہرا اثر قبول کرتی ہیں۔یہ اثر دل کی طرف منتقل ہوتا ہے اور بسا اوقات مختلف بیماریوں اور جسمانی عوارض میں تبدیل ہو جاتا ہے۔اگنیشیا کا مزاج رکھنے والی عورت کا غم کے اثر سے دل کی مریض یا دماغی مریض بن جانا بعید از قیاس نہیں ہے۔اسے بعض اوقات ہسٹیریا کے دورے بھی پڑنے لگتے ہیں۔ایسی صورت میں اگنیشیا کو یا درکھنا چاہئے۔اگنیشیا کی ایک ظاہری پہچان یہ ہے کہ اس کا مریض کافی (Coffce) نہیں پی سکتا۔چونکہ اعصاب بہت زود حس اور لطیف ہوتے ہیں، کافی اس حس کو بڑھا دیتی ہے اور سخت تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے۔اس لئے کافی کے ایک دو گھونٹ بھرنا بھی اس کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔اس کا مریض بہت جذباتی ہو جائے تو کھل کر غصہ نکالنے کے بجائے تنہائی میں کڑھتا رہے گا یا بہت افسردگی محسوس کرے گا۔سٹیفی سیگریا کے مریض میں بھی غصہ دبانے کا رجحان پایا جاتا ہے لیکن جب صورت حال حد سے بڑھ جائے تو پھر اس سے پیدا ہونے والی گھٹن جسمانی عوارض میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اگنیشیا میں بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔اگر اس کی مریض عورت کسی مجلس میں جائے اور وہاں اسے کوئی طعنہ دیا جائے یا اس کا مذاق اڑایا جائے تو وہ اسے خاموشی سے برداشت تو کر لے گی اور کوئی جواب نہیں دے گی لیکن گھر واپس آ کر اسے شدید سر درد ہوگا اور اعصابی تناؤ اور بے چینی محسوس ہوگی۔ایسی کیفیت میں اگنیشیا کی ایک ہی خوراک اسے سکینت بخشے گی اور