ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 459 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 459

ہائیو مس 459 جو تو ہمات دل میں جگہ بنا لیتے ہیں ان میں ایک یہ وہم بھی ہوتا ہے کہ میری بخشش کا زمانہ گزر گیا ہے، اب کبھی بخشا نہیں جاؤں گا۔بعض دفعہ فرضی جرائم کا خیال بھی دماغ پر قبضہ کر لیتا ہے۔مثلاً یہ کہ اس نے قتل یا کوئی اور بھیانک جرم کیا ہوا ہے جو درحقیقت اس نے کیا نہیں ہوتا۔یہ صرف وہم ہوتا ہے۔حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ہائیوںمس کی ایک علامت گلونائن اور کیس سے ملتی ہے کہ مریض راستہ چلتے ہوئے بھول جاتا ہے کہ میں کہاں ہوں۔گھر پر ہو تو سمجھتا ہے کہ گھر پر نہیں ہوں۔اگر باہر ہوتو سمجھ نہیں آئے گی کہ کہاں ہوں اجنبیت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ہائیو مس کا مریض پانی سے ڈرنے لگتا ہے اور پانی بہنے کی آواز طبیعت میں ہیجان پیدا کر دیتی ہے۔گلے میں تشیخ ہو جاتا ہے اور پانی اندر نہیں جا سکتا۔ڈاکٹر کینٹ نے لکھا ہے کہ بیلاڈونا، بائیوٹکس، لینتھرس اور ہائیڈ روفوبینم اس مرض کی بہترین دوائیں ہیں۔میرے تجربے میں ہے کہ سٹرامونیم اور ہائیڈ روسائیٹینک ایسڈ دونوں اس رجحان کا قلع قمع کرنے والی دوائیں ہیں۔اگر پانی پیتے ہوئے گلے میں شیخ پیدا ہو جائے تو اس میں یہ بہت مفید ہیں۔پانی کا خوف (Hydrophobia) ہلکائے کتے کے کاٹنے سے پیدا ہوتا ہے۔سٹرامونیم ملکائے کتنے کے کاٹے کا بہترین علاج ہے۔پرانے زمانے میں بعض اطباء ایسے مریضوں کو سٹرامونیم کھلایا کرتے تھے جس کے اچھے نتائج نکلتے تھے۔ہو میو پیتھی میں بھی یہ بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔بعض یسے مریض جن میں ہلکائے کتے کے کاٹے کی علامتیں ظاہر ہوں، ان کو سٹرامونیم اور ہائیڈ روفو بینم ملا کر دینی چاہئیں۔اللہ کے فضل سے بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔اگر کسی جگہ ٹیکے میسر نہ ہوں تو خواہ یہ پتہ نہ بھی ہو کہ کاٹنے والا کتا پاگل تھا یا نہیں، فوراً یہ دونوں دوائیں ملا کر دیں۔چند دن روزانہ، پھر کچھ مہینے ہفتہ میں دو تین دفعہ کھلاتے رہیں۔پھر آہستہ آہستہ بند کر دیں تو اللہ کے فضل سے پاگل پن کے آثار ظاہر ہی نہیں ہوتے اور خطرہ مستقل ائل جاتا ہے۔اگر اعصاب کی خرابی کی وجہ سے نظر کمزور ہو جائے تو اس میں بائیو کس اچھا عمل