ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 460 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 460

ہائیو مس 460 دکھاتی ہے۔اگر نظر دھندلا جائے اور ایک جگہ نہ ٹھہرے اور وقتا فوقتایہ خرابی ظاہر ہونے لگے تو ہا ئیومکس استعمال کرنی چاہئے۔بعض دفعہ بخار کی حالت میں مریض کو دندل پڑ جاتے ہیں اور منہ خشک اور بد بودار ہوجاتا ہے۔زبان سرخ یا بھوری ، خشک اور کٹی پھٹی ہوتی ہے۔بعض دفعہ زبان پر سے کنٹرول اٹھ جاتا ہے یا کم ہو جاتا ہے۔اس لئے مریض بولتے بولتے فالج زدہ کی طرح رک رک کر بولتا ہے، زبان بے حس بھی ہو جاتی ہے اور کھانا کھاتے ہوئے مریض کی زبان کٹ جاتی ہے۔اگر معدے کی خرابی کی وجہ سے یہ علامات پیدا ہوں تو اس میں پلسٹیلا اور کار بود یج بھی مفید ہیں۔ہائیو مکس میں معدہ ڈھیلا ہو کر پھیل جاتا ہے اور ٹائیفائیڈ کے اسہال کی طرح دانے دار اجابت ہوتی ہے۔بعض دفعہ پانی کی طرح اسہال آتے ہیں جن میں خون کی آمیزش ہوتی ہے۔ایک اور تکلیف دہ بیماری یہ ہے کہ مریض کا پیشاب، پاخانہ بغیر علم کے نکل جاتا ہے اور عضلات پر کنٹرول نہیں رہتا۔اگر وضع حمل کے بعد عورتوں کا پیشاب رک جائے تو کاسٹیکم اولین دوا ہے۔آرنیکا کے ساتھ ملا کر کر دیں تو بہت مؤثر ثابت ہوتی ہے لیکن اگر اس سے فائدہ نہ ہو تو ہا ئیوٹکس بھی استعمال کرنی چاہئے کیونکہ بائیو کس پیشاب کی نالیوں کی انفیکشن اور سوزش میں مفید ہے۔ہائیو مس کی ایک علامت یہ ہے کہ پیٹ میں شدید مروڑ اٹھتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ درد کی شدت سے پیٹ پھٹ جائے گا۔الٹیاں بھی آتی ہیں نیکی لگ جاتی ہے۔مریض چینیں مارتا ہے، اسے چکر آتے ہیں اور معدے میں جلن کا احساس بھی ہوتا ہے۔ایام حیض سے قبل عورتوں میں ہسٹیریائی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔شیخ ہوتا ہے۔دوران حیض بھی عضلات میں اینٹھن ہوتی ہے۔پسینہ بہت آتا ہے۔چھاتی میں جکڑے جانے کا اور گھٹن کا احساس ہوتا ہے اور مریض آگے کو جھکتا ہے اور تکلیف کی شدت سے دہرا