ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 440
سلف 440 مثلاً پانی بہنے اور آنکھیں چپک جانے میں ہسپر سلف بہت کام آتی ہے۔روز مرہ کی کھانسی کے لئے بیلاڈونا ، آرسنک، ہیپر سلف اور اپی کاک مفید ہیں۔اپی کاک اور ہیپر سلف میں یہ امتیاز یا د رکھیں کہ اپی کاک کی بلغم قدرے نرم ہوتی ہے اور بآسانی نکل جاتی ہے۔اگر بلغم پھنسی ہوئی ہو اور چپکنے والی ہو تو ہمیپر سلف، کالی بائیکروم یا کوکس (Coccus) مفید ہوں گی۔ہیپر سلف بہت گہری دوا ہے۔اگر اچانک شدید بیماری کا حملہ ہو تو اونچی طاقت میں دینے سے فائدہ ہوتا ہے اور بار بار اونچی طاقت میں دینا بھی نقصان دہ نہیں۔ایک ہزار طاقت میں بیماری کی شدت توڑنے کے لئے ایک دن میں دو بار بھی دی جاسکتی ہے لیکن جب مرض قابو میں آ جائے تو پھر وقفہ بڑھانا لازم ہے۔دوا کی طاقت کے استعمال کے بارے میں اپنے تجربہ سبق سیکھیں۔رفتہ رفتہ تجربہ سے پوٹینسی کے استعمال کا سلیقہ آ جاتا ہے۔اگر بیماری طویل ہو جائے تو ایسی مزمن حالت میں یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ مریض اونچی طاقت سے آنا فانا ٹھیک ہوسکتا ہے۔پرانے مرض میں سارے جسم کے نظام میں گہری تبدیلیوں کی ضرورت ہوتی ہے جو فوری طور پر پیدا نہیں ہوسکتیں۔اگر جسم کا دفاعی نظام کمزور ہو چکا ہو اور مریض میں مقابلہ کی طاقت بہت کمزور ہو چکی ہوتو او چی طاقت میں دوا دینے سے شدید ردعمل کا خطرہ ہوتا ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔چونکہ ہپر سلف میں سلفر کا عنصر موجود ہوتا ہے اس لئے سلفر سے بھی اس کی مشابہت ہے۔اگر مریض کے پھیپھڑوں میں تپ دق کے پرانے داغ ہوں۔جراثیم چھوٹی چھوٹی گلٹیوں کی صورت میں پھیپھڑوں میں جگہ بنالیں تو سلفر ان کوختم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ایسی صورت میں سلیشیا دینے کی ضرورت نہیں ہے۔سلفر ان جراثیم کو کمزور کر کے بلغم کے ذریعے باہر نکال دیتی ہے۔لیکن ایک بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ تپ دق میں سلفر اونچی طاقت میں نہیں دینی چاہئے جب تک یہ تسلی نہ کر لی جائے کہ پھیپھڑوں میں شریانوں کے قریب جراثیم کی بڑی بڑی گلٹیاں موجود نہیں۔تپ دق کے مریض جن کے پھیپھڑے