ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 441
سلف 441 سلی گلٹیوں سے بھرے ہوئے ہوں، ان میں سلفر کی اونچی طاقت میں سلیشیا کا ساعمل دکھاتی ہے اور ان گلٹیوں کو پگھلا کر باہر نکالنے کی کوشش کرتی ہے جن کے ساتھ جڑی ہوئی خون کی شریانیں بھی پھٹ جاتی ہیں۔ایسے مریضوں کا بہتر علاج یہ ہے کہ کچھ عرصہ درمیانی طاقت میں سلفر دے کر کلکیریا کارب پر ڈال دیں کیونکہ کلکیریا کارب کے اثر سے سلی مادے کے اردگر دانڈوں کی طرح خول سے بن جاتے ہیں جن کے اندر جراثیم مقید ہو جاتے ہیں۔ہیپر سلف پھیپھڑوں، انتڑیوں یاکسی اور جگہ دق کے ظاہر ہونے والے اثرات میں بھی مفید دوا ہے۔دق کی علامات چاہے جسم کے کسی حصہ پر ظاہر ہوں یا اندرونی نظام پر اثر کریں، ہیپر سلف دونوں جگہ کام کرے گی۔ہیپر سلف میں کلکیر یا اور سلفر دونوں عناصر پائے جاتے ہیں لیکن سلفر کا اثر زیادہ غالب ہوتا ہے اور سلفر کو جو مشابہت سلیشیا سے ہے وہ اسے بھی ہے۔ہیپر سلف جلد پر ظاہر ہونے والے ہرقسم کے زخموں کے لئے مفید ہے۔زخموں سے پیپ اور خون بہتا ہو اور وہ متعفن ہو جائیں اور ان کے گرد دانے سے بن جائیں، نہ پکنے والے پھوڑے اور وہ زخم جو مشکل سے مندمل ہوں، سب ہپر سلف کے دائرے میں آتے ہیں۔لیکن ہیپر سلف اور نائیٹرک ایسڈ دونوں اس لحاظ سے ہم مزاج ہیں کہ ان میں چھوٹے چھوٹے زخم علیحدہ علیحدہ بھی پائے جاتے ہیں اور کچھوں کی صورت میں بھی جو ایک طرف سے شروع ہو کر پھیلنے لگتے ہیں۔یہ دونوں دوائیں انتڑیوں کے السر میں بھی مفید ہوسکتی ہیں۔مرکزی بھی انتریوں کے اس قسم کے زخموں میں ان دونوں دواؤں سے مشابہ ہے۔ہسپر سلف پرانے مسوں میں جو ٹھیک نہ ہوں مفید ہے۔جلد پر خارش ہوتی ہے اور جسم پر دانے بن جاتے ہیں۔جلد پر چھلکے اور کھرنڈ بنے لگتے ہیں جو ا کثر ایگزیموں میں ملتے ہیں۔اگر یہ کھرنڈ کان کے پیچھے اور گلے کے ارد گرد ہوں اور ان سے گوند کی طرح کا چپکنے والا موادر سنے لگے تو گریفائٹس سے آرام آتا ہے۔اس قسم کے کھرنڈ جو کسی دوا سے ٹھیک نہ ہوں ان میں ہپر سلف کو آزمانا نہ بھولیں۔