ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 438 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 438

سلف 438 بہت نمایاں کام کرتی ہے۔ہپر سلف میں کھانسی عموما صبح کے وقت زیادہ ہوتی ہے اور سردی سے کھانسی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور کھانسی میں اکثر درد پایا جاتا ہے۔اس کی ایک اور علامت گلے میں پھانس کا احساس ہونا ہے جیسے کوئی چیز پھنسی ہوئی ہو اور کوشش کے باوجود نکلتی نہ ہو۔اگر واقعتا کوئی چیز پھنسی ہوئی ہو تو ہسپر سلف کی بجائے سلیشیا سے باہر نکلتی ہے۔ایسی صورت میں سلیشیا لا جواب کام کرتی ہے۔جسم کے اندر کوئی چیز کہیں پھنس گئی ہو تو سلیشیا اسے بہت جلد نکال باہر کرتی ہے۔لیکن پھر سلف میں واقعتا کوئی چیز پھنسی ہوئی نہیں ہوتی محض پھانس اٹکنے کا احساس ہوتا ہے جو بہت بے چین کرتا ہے۔ہسپر سلف کا مریض ضرورت سے زیادہ حساس ہوتا ہے۔ماحول سے بہت متاثر ہوتا ہے اور ہر قسم کے درد کو نمایاں طور پر محسوس کرتا ہے۔اس کے مزاج میں تندی اور غصہ پائے جاتے ہیں۔مریض عام طور پر خواہ کتنا ہی رحم دل ہو بیماری کے دوران ایک دم جوش میں آ جاتا ہے حتی کہ اپنے قریبی دوست کو بھی قتل کر سکتا ہے۔گو میرے علم میں آج تک کبھی کوئی اس قسم کا مریض نہیں آیا۔پاگل مریضوں میں تو ایسا ہونا ممکن ہے لیکن کتابوں میں یہ عام مریضوں کی علامت بتائی جاتی ہے جو کچھ مبالغہ معلوم ہوتا ہے۔غدودوں کا سخت ہونا اور سوج جانا بہت سی دواؤں میں پایا جاتا ہے۔یہ ہمیپر سلف کی بھی علامت ہے۔اگر سختی اور سوزش مستقل ٹھہر جائیں تو اس کا علاج حسب حالات مختلف دواؤں سے کیا جاتا ہے لیکن اگر ان کے اندر پیپ پیدا ہونے لگے تو اس صورت میں ہسپر سلف دینے میں تامل نہیں کرنا چاہئے۔کلکیر یا سلف بھی بہت اچھی دوا ہے۔بعض بچوں میں ناخن کھانے کی عادت ہوتی ہے جس کی وجہ سے ناخنوں کے کناروں پر گوشت اکھڑ نے لگتا ہے اور بے چینی پیدا کرتا ہے۔اگر ذرا بھی ہاتھ لگ جائے تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔بچہ اس گوشت کو چبانے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ دانتوں سے نو چتا ہے پھر اس کی یہ عادت پختہ ہو جاتی ہے۔نیٹرم میور کے علاوہ اس بیماری میں