ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 436 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 436

ہیلو نفیس 436 وضع حمل کے وقت جلسیمیم ، کالی کا رب اور آرنیکا بہت مفید اور ضروری ہیں اور وضع حمل کے بعد کی پیچیدگیوں مثلاً پرسوتی بخار وغیرہ کے خلاف حفظ ما تقدم کا کام دیتی ہیں۔اگر پر سوتی بخاریعنی وضع حمل کے دوران یا بعد تعفن پیدا ہونے سے بخار ہو بھی جائے تو سلفر اور پائیر وجینم دونوں کو 200 طاقت میں ملا کر حسب ضرورت بخار ٹوٹنے تک دن میں تین بار اور بخار ٹوٹنے کے بعد چند دن روزانہ ایک بار دیتے رہیں تو یہ بہترین علاج ہے۔ہیلونیس ذیابیطیس میں بھی بہت مفید ہے۔اگر عورتوں کو رحم کی تکلیفوں کے ساتھ ذیا بیطس بھی ہو تو یہ دونوں تکلیفوں کو دور کر سکتی ہے۔کم سے کم ایک ماہ تک مسلسل استعمال کروانی چاہئے۔اگر ذیا بیطس کم ہونے لگے تو یہ اکیلی دوا ہی کافی ہوگی ورنہ ذیا بیٹس کی دوسری دوائیں تلاش کریں۔ہیلونیس کی ایک اور علامت یہ ہے کہ حیض جلدی جلدی ہوتا ہے یا پھر کئی کئی ماہ کے لئے بند ہو جاتا ہے۔سخت افسردگی کے دورے پڑتے ہیں اور مریضہ بہت ست ہو جاتی ہے۔شد ید لیکوریا آتا ہے جس کے ساتھ خارش بھی ہوتی ہے۔ہیلونیس کا گردوں سے بھی تعلق ہے۔گردوں میں خون کا اجتماع ہو جاتا ہے۔دونوں طرف شدید جلن محسوس ہوتی ہے جو بیرونی جلد پر بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔مریض بیرونی طور پر درد کی لکیروں کا خاکہ اپنی انگلی سے کھینچ سکتا ہے۔ایسے مریضوں کے پیشاب میں بعض دفعہ البو من بھی خارج ہوتی ہے۔اگر حمل کے دوران یہ ہو تو ہیلو نفیس کو نہیں بھولنا چاہئے۔ہیلو نیس کی مریضہ اپنی توجہ بیماری سے ہٹائے تو بہتر محسوس کرتی ہے۔حرکت سے تکلیف بڑھتی ہے۔طاقت : 30 سے 200 تک