ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 2 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 2

ابراٹینم 2 بھاری امکان ہے کہ یہ مریض ابراٹینم سے شفا پائے گا۔۔ابراٹینم کے بنیادی مزاج میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اس کا مریض اسہال کے دوران آرام پاتا ہے کیونکہ وہ فاسد مادے جو جوڑوں کی تکلیف پیدا کرتے ہیں اسہال کے ذریعہ خارج ہوتے رہتے ہیں۔پس ایسے مریضوں کے اسہال کا اگر ابراٹینم کے ذریعہ ہی علاج کیا جائے تو رفتہ رفتہ اسہال بھی دور ہو جائیں گے اور جوڑوں میں درد کی شکایت بھی ختم ہو جائے گی۔اگر جوڑوں کے درد کسی دوا یا مقامی علاج مثلاً ٹکور وغیرہ سے ٹھیک ہو جائیں اور اسہال لگنے کی بجائے پلوریسی (Pleurisy) یعنی ذات الجنب کی تکلیف شروع ہو جائے جو ملتی جلتی بالمثل دواؤں سے ٹھیک نہ ہو تو ہو میو پیتھ کا فرض ہے کہ وہ یہ تحقیق کرے کہ ذات الجنب کی تکلیف شروع کیسے ہوئی تھی۔اگر اس سے پہلے جوڑوں کے درد پائے جاتے تھے جن کے ٹھیک ہونے کے بعد پلوریسی شروع ہوئی تو لازماً ابراٹینم ہی اس مریض کی دوا ہوگی۔اس کا پہلا اثر تو یہ ہوگا کہ پلوریسی کے ٹھیک ہونے پر ضرور کسی نہ کسی جوڑ میں تکلیف دوبارہ شروع ہو جائے گی۔اس کا علاج مسلسل ابراٹینم سے ہی جاری رکھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اسی دوا سے جوڑوں کے درد بھی ٹھیک ہو جائیں گے۔یہ دوا بچوں کے سوکھے پن کی بیماری میں بھی بہت مفید ثابت ہوتی ہے لیکن محض اس صورت میں جب اس کی مخصوص علامت بچوں میں پائی جائے۔سوکھے کے مریض بچوں کے علاج میں ایتھوزا (Aethusa)، نیٹرم میور (Natrum Mur)، اور کلکیریا کارب (Calc۔Carb) کو بھی بہت شہرت حاصل ہے۔کلکیریا کارب کا سوکھا پن صرف ٹانگوں سے تعلق رکھتا ہے جبکہ ابراٹینم کا سوکھا پن بھی گوٹانگوں سے شروع ہوتا ہے مگر ٹانگوں تک محدود نہیں رہتا اور اوپر کے بدن کی طرف منتقل ہونے لگتا ہے۔صرف اسی ایک علامت کا پایا جانا ہی ابراٹینم کی تشخیص کرنے کے لئے کافی ہے۔اگر 30 طاقت میں دن میں تین بار د واشروع کروائی جائے تو خدا کے فضل سے یہ کمل شفا کا موجب ہو سکتی ہے۔