ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 3

ابراٹینم 3 اگر جوڑوں کے دردوں کے عوارض بظا ہر ٹھیک ہو جائیں لیکن مریض کا دل بیمار پڑ جائے تو متعلقہ دواؤں کی تلاش میں ابراٹینم کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔اسہال اچانک بند ہونے کے نتیجہ میں بعض اوقات جوڑوں کے دردوں کے علاوہ خونی بواسیر کی شکایت بھی ہو جاتی ہے۔اس کا بھی ابراٹینم سے ہی علاج کیا جائے۔ایسے مریض کا عمومی مزاج سردی بہت محسوس کرتا ہے اور تکلیفیں ٹھنڈے اور بھیگے موسم میں بڑھ جاتی ہیں۔ایسے مریض کو اکثر کمر درد کی بھی شکایت رہتی ہے جو ہمیشہ رات کو بڑھ جاتی ہے۔کمر کا ایسا درد جو رات کے پچھلے پہر یعنی تین چار بجے کے قریب بڑھے وہ ابراٹینم کی نہیں بلکہ کالی کا رب (Kali Carb) کی نشان دہی کرتا ہے۔ابراٹینم کا در درات کے کسی معین حصے سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اکثر رات پڑنے پر کمر درد میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔اگر ایسے مریض میں ابراٹینم کی مرکزی علامت بھی پائی جائے یعنی اس کا ہر مرض اسہال لگ جانے سے ٹھیک ہو جائے تو ایسا کمر درد بھی ابراٹینم سے شفا پا جائے گا۔اسہال سے بہتری محسوس کرنے کی علامت کسی حد تک نیٹرم سلف Natrum Sulph) اور زنک (Zinc) میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان کی دوسری امتیازی علامتیں بغیر دقت کے شناخت کی جاسکتی ہیں۔ابراٹینم کے در دبعض اوقات تیز اور کاٹنے والے ہوتے ہیں جو جوڑوں کے علاوہ خواتین کی بیضہ دانیوں (Ovaries) پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ایسی مریضہ جس کی بیضہ دانی میں اس قسم کے کاٹنے والے درد ہوں اور وہ عموماً جوڑوں کے درد کی بھی شاکی رہے یا رات کو بڑھنے والا کمر درد ابراٹینم کے مشابہ ہو اور اسے اسہال سے آرام ملتا ہو تو اس کے بانجھ پن کا بھی ابراٹینم ہی بہترین علاج ثابت ہوگا۔طاقت : 30