ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 338
کروٹن 338 ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اندر پانی بھرا ہوا ہو۔معدہ میں بھوک اور خالی پن کا احساس ہوتا ہے۔کروٹن میں جلد اور پیٹ کی علامتیں ایک دوسرے سے ادلتی بدلتی رہتی ہیں۔اس میں آنکھوں کی بھی ہر قسم کی تکلیفیں پائی جاتی ہیں۔آنکھوں کی سرخی اور زخم ، پپوٹوں پر دانے اور آبلے بن جائیں اور سوزش ہو تو کروٹن مفید دوا ہے۔آنکھ کی یہ تکلیفیں دوسری دواؤں میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن اگر ان کے ساتھ انتڑیوں کی سوزش بھی نمایاں ہو تو کروٹن کے دوا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔کروٹن میں آنکھیں پیچھے کی طرف کھنچنے کی علامت بھی پائی جاتی ہے۔Paris Quadrifolia میں یہی علامت نسبتاً وسیع بیماریوں کے دائرے سے تعلق رکھتی ہے یہاں تک کہ عورتوں کو سینے کی بیماریوں میں اندر دھاگے سے کھینچنے کا احساس ہوتا ہے اور شدید درد ہوتا ہے جس سے رات کو سونا دشوار ہو جاتا ہے۔کروٹن اور Paris میں یہ فرق ہے کہ Paris میں اسہال کی علامت نہیں ہوتی لیکن کروٹن میں اسہال کی علامت عموماً پائی جاتی ہے اور ناف کے پیچھے کھچاؤ کا احساس ہوتا ہے جیسے رسی سے اندر کی طرف کھینچا جارہا ہو۔یہ احساس پلم میں بھی پایا جاتا ہے۔بچوں کے ایگزیما خصوصاً سر کے ایگزیما میں کروٹن کی سپیا سے بہت مشابہت ہے۔مگر کروٹن کی دیگر واضح علامتیں اسے سپیہا سے جدا کرتی ہیں۔بعض دوائیں ایسی ہیں جن کا آلات تناسل کے ایگزیموں سے تعلق ہوتا ہے۔کروٹن ان میں سرفہرست شمار ہونی چاہئے۔رسٹاکس، اینا گیلس اور گریفائٹس بھی اس مرض کے علاج میں شہرت رکھتی ہیں۔کروٹن کے چھالے رسٹاکس سے چھوٹے ہوتے ہیں اور پانی بھی رسٹاکس کے مقابلہ میں کم بہتا ہے۔کروٹن اور رسٹاکس ایک دوسرے کے اثر کو زائل (Antidote) کرتی ہیں۔رسٹاکس میں اسہال کی علامتیں نہیں ملتیں۔کروٹن یعنی جمال گوٹا کھانے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے خطرناک اسہال کا تریاق پوڈوفائیم (Podophyllum) ہے۔پوڈوفائیلم میں بھی پچکاری کی طرح زور دار اسہال