ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 311
کاکولس 311 ہیں۔دماغ بوجھل رہتا ہے۔اس کے علاوہ بیلا ڈونا اور گلوٹائن کی طرح دھوپ میں کام کرنے سے پیدا ہونے والے سر درد میں بھی کا کولکس مفید ہے۔کا کولس میں بینائی دھندلا جاتی ہے لیکن یہ کیفیت مستقل نہیں ہوتی۔اعصابی کمزوری کی وجہ سے کچھ عرصہ کے لئے نظر دھندلا جاتی ہے۔ذہنی تھکان بھی عارضی ہوتی ہے۔آنکھوں میں درد کی وجہ سے خصوص رات کے وقت آنکھیں کھولنی مشکل ہوں، پپوٹے متورم ہوں اور پتلیاں سکڑ جائیں تو یہ بھی کا کولس کی علامت ہے۔کا کوکس میں منہ کا ذائقہ دھات کی طرح ہو جاتا ہے جس میں ہلکی سی تیزابیت پائی جاتی ہے۔معدہ میں کھٹاس ہمتلی اور قے کا رجحان پایا جاتا ہے۔اس میں ملیریا کی سی علامتیں بھی ہیں مگر سارے جسم میں دردوں کی بجائے صرف ٹانگوں میں درد ہوتا ہے۔اس علامت کے ساتھ چکر اور متلی کے ساتھ جو بخار شروع ہو اس میں کا کولس مفید دوا بتائی جاتی ہے۔کاکولس کے مریض کے لئے کھانے کی بو نا قابل برداشت ہوتی ہے بلکہ اس سے متلی شروع ہو جاتی ہے۔کو چیکم میں بھی یہ علامت ہے۔اگر کسی غدود میں سوزش ہو تو اس کے لئے کرئیوز وٹ (Kreosotum) اور بعض اور دوائیں اہم ہیں لیکن کا کولکس میں یہ تکلیف فالجی کیفیت کی وجہ سے ہوتی ہے۔اسی طرح انتڑیوں اور پیٹ کے عضلات کی فالجی کمزوری کی وجہ سے قبض ہو جاتی ہے اور فضلہ بہت مشکل سے خارج ہوتا ہے۔حیض جلد یا بہت تاخیر سے آتے ہیں اور لمبا عرصہ چلنے والے ہوتے ہیں لیکن یہ علامتیں اور بھی بہت سی دواؤں میں پائی جاتی ہیں۔کا کولس کی مزاجی علامتیں پیش نظر رکھنی چاہئیں۔اگر وہ موجود ہوں تو پھر کا کولس ہی دوا ہے۔عمومی کمزوری ، جزوی فالج ، حرکت سے تکلیف اور اعصاب کی پیغام رسانی میں آہستگی کا کولس کی خاص علامتیں ہیں۔دوحیفوں کے درمیان سفید پانی کی طرح لیکوریا جاری ہونا اس کی خاص علامات میں داخل ہے جو بہت کمزور کرنے والا ہوتا ہے اتنا کہ عورت کے لئے بات کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔دایاں اور بایاں ہاتھ باری باری ٹھنڈے اور گرم ہوتے رہتے ہیں اورسن بھی