ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 296
سائنا 296 سائنا میں تشیخ بھی نمایاں ہوتا ہے۔اعضاء میں اینٹھن ہوتی ہے اور جھٹکے لگتے ہیں۔اس کے شیخ میں سیکوٹا کی طرح گردن پیچھے کی طرف اکڑتی ہے۔ہاتھوں کی انگلیاں اندر کی طرف مڑ جاتی ہیں۔جسم میں کپکپی اور لرزے کا احساس ہوتا ہے۔اگر ایسے مریض کو کمر پہ پھیکی دیں تو اس کے سر میں درد ہونے لگتا ہے۔سائنا کے مریض کی تکلیفیں کھانا کھانے سے بڑھ جاتی ہیں۔مریض بہت بھوک محسوس کرتا ہے۔بچہ کھٹا دودھ نکالتا ہے۔اس کا مزاج کسی حد تک ایتھوزا (Aethusa) سے بھی ملتا ہے۔گرمی کا اثر دماغ کے علاوہ معدے اور انتڑیوں پر بھی ہوتا ہے۔لیکن ان علامات کا اظہار ایتھوزا سے قدرے مختلف ہوتا ہے۔ایتھوزا میں بچہ دودھ پیتے ہی الٹ دیتا ہے اور قبض کا رجحان رکھتا ہے جبکہ سائنا میں اسہال لگ جاتے ہیں یا پیچیش ہو جاتی ہے جس میں سفیدی مائل آؤں آتی ہے۔اگر انفیکشن بہت گہری ہو جائے تو سبز رنگ کے اسہال آتے ہیں۔سائنا میں مریض کے لمس اور مزے کی حس بہت تیز ہو جاتی ہے یا بہت کم۔توازن نہیں رہتا۔بسا اوقات کوئی چیز کھاتے ہوئے کسی اور چیز کا مزہ آنے لگتا ہے۔دودھ یا پانی پیتے ہوئے یا غذا نگلتے ہوئے گڑ گڑاہٹ کی آواز آتی ہے۔کیو پرم اور آرسینک میں بھی یہ علامت ہے۔کیو پرم پیٹ کے کیڑوں کے لئے بھی اچھی دوا ہے۔سائنا کے اسہال سخت بد بودار ہوتے ہیں اور ایک دم زور سے نکلتے ہیں جو پوڈوفائیلم کی یاد دلاتے ہیں۔سائنا کی ایک خاص علامت جو اسے دوسری دواؤں سے ممتاز کرتی ہے یہ ہے کہ بچہ پیٹ کے بل لیٹے تو اسہال رک جاتے ہیں یعنی الٹا لیٹ کر پیٹ دبانے سے افاقہ ہوتا ہے۔اگر ملیریا کے حملہ کے بعد مرگی کے دورے پڑنے لگیں تو سائنا کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔سائنا میں صبح کے وقت زور دار کھانسی ہوتی ہے اور کھانستے کھانستے تشیخی کیفیت ہو جاتی ہے، سینے میں درد ہوتا ہے، کالی کھانسی کے شدید دورے پڑتے ہیں۔بعض عورتوں کو اگر حمل کے دوران غیر متوقع خوشی یا غم کی خبر پہنچے تو بعض تکلیفیں