ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xxx
دیباچه 18 کہ اس اثر کا مادی ذرات سے تعلق نہیں ہوتا۔دوا بناتے ہوئے جب محلول سے اصل مادہ بالکل غائب ہو جاتا ہے تو اس کے اندر محض اس کی ایک یا دسی باقی رہ جاتی ہے جو منہ یا خون میں شامل ہو کر اپنا اثر ضرور دکھاتی ہے اور روح اس پیغام کو سمجھ لیتی ہے۔در اصل خدا تعالیٰ نے یاد کا ایک ایسا نظام بنارکھا ہے کہ وہ بھی نہیں ملتا۔یہ ایک روحانی نظام ہے جس کا مادے سے بھی ایک تعلق ہے۔دوا کب کھائی جائے دوا کھانے میں یہ احتیاط لازم ہے کہ کھانے معا پہلے یعنی آدھے گھنٹے تک اور آدھے گھنٹے بعد تک نہ کھائی جائے تو بہتر ہے۔اگر اس وقفہ سے کم میں بھی کھانی پڑے تو کچھ نہ کچھ اثر ضرور دکھائے گی لیکن دوا کا بہترین وقت خالی پیٹ کا ہے۔اگر فوری ضرورت پیش آئے تو پھر کسی بھی وقت ہو میو دوائی لی جاسکتی ہے۔نہارمنہ یارات کے کھانے کے دو دچار گھنٹے بعد دواکھانا بہر حال بہتر ہے۔مریض کی خوراک ہومیو پیتھی طریق علاج میں خوراک کے بارے میں کوئی خاص پابندی نہیں ہے کہ کیا کھایا جائے اور کیا نہ کھایا جائے۔ہومیو پیتھی دوائیں ہر قسم کی خوراک کھانے کے باوجود مکمل اثر دکھاتی ہیں اور کسی قسم کا خلل واقع نہیں ہوتا۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر مریض کو ایسی غذا کے استعمال سے پر ہیز کرنا چاہیے جس سے اس کی تکلیف میں اضافہ ہو جاتا ہو اورہ اس کے مزاج سے موافقت نہ رکھتی ہو۔اس کا فیصلہ طبیب سے بڑھ کر مریض خود کر سکتا ہے۔ہو میو پیتھک دواؤں کو محفوظ رکھنے کا طریقہ ہومیو پیتھک دوائیں لمبے عرصہ تک خراب نہیں ہوتیں۔سوسال سے زائد مدت تک بھی پڑی