ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page xxix of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xxix

دیباچہ 17 پر ہومیو پیتھ آج تک متفق نہیں ہو سکے۔ہر ایک اپنے تجربے کے مطابق مختلف طریق استعمال کرتا ہے۔میں نے اپنی کتاب میں ہر جگہ اپنے تجربہ کے مطابق ہی کارآمد طاقتیں تجویز کی ہیں اور مختلف ہومیو پیتھس کے تجارب کے پیش نظر ان کی کتابوں میں مذکور طاقتوں کا بھی ذکر کر دیا ہے۔اور یہ بات معالج پر کھلی چھوڑ دی ہے کہ وہ جو طریق چاہے اختیار کرے۔جن طاقتوں کے مؤثر ہونے پر میں خود شاہد ہوں ان کو استعمال میں لانے والے شاذ کے طور پر ہی ان سے استفادہ کرنے سے محروم رہیں گے۔سوائے اس کے کہ وہ ان دواؤں کو اس طاقت میں استعمال کریں جو ان مریضوں کے مناسب حال نہ ہو۔ہومیو پیتھک ادویات کی مقدار اتنی اہم نہیں ہوتی۔مریض چند گولیاں کھائے یا زیادہ کھائے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔البتہ کوئی دوائی جتنی دفعہ کھائی جائے اس سے ضرور فرق پڑتا ہے۔ہومیو پیتھی دوا ایک دفعہ کھانے کو ایک سٹرائیک (Strike) کہا جاتا ہے۔دوا کے منہ میں ڈالتے ہی جس میں اس کا رد عمل شروع ہو جاتا ہے۔اور دن رات میں جتنی بار یہ دوائی کی جائے گی ہر دفعہ تحریک کا اعادہ کرے گی۔بعض ہومیو پیتھک معالجین اصرار کرتے ہیں کہ دوا ہاتھ کی بجائے کاغذ پر ڈال کر کھانی چاہیے ور نہ اس کا اثر ضائع ہو جائے گا۔حالانکہ عام طور پر ہاتھ منہ سے زیادہ صاف ہوتے ہیں اور منہ میں کئی قسم کی آلائشوں کی تہیں چڑھی ہوتی ہیں۔اگر منہ دوا کے اثر کو قبول کر سکتا ہے تو پھر ہاتھ پر ڈال کر کھانے سے کیا فرق پڑ سکتا ہے۔اگر کاغذ پر ڈالی جائے تو کاغذ پر بھی تو آلودگی ہوتی ہے۔عام خوردنی نمک کی ہومیو پیتھک پوٹینسی کو نیٹرم میور (Natrum Mur) کہا جاتا ہے۔منہ میں پہلے ہی اتنی مقدار میں نمک موجود ہوتا ہے کہ اس کی ہومیو پیتھک خوراک کھائی جائے تو ایسا ہی ہے جیسے نمک کی کان میں نمکین پانی کا معمولی سا قطرہ ڈال دیا جائے لیکن اس کے باجوداثر ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے