ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 252 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 252

کار بونیم سلف 252 ہو جاتا ہے۔دونوں کے اثرات الگ الگ طریق پر ظاہر ہوتے ہیں۔کئی ہو میو پیتھک معالجین نے اپنے تجربہ کی بناء پر لکھا ہے کہ کار بو نیم سلف چہرے پر ظاہر ہونے والے خطرناک مرض لیوپس (Lupus) کی بہترین دوا ہے اور اس سے مکمل شفا ہو جاتی ہے۔ہومیو پیتھک معالجین کو اس پر مزید تجربہ کرنا چاہئے۔میں نے اس سلسلہ میں کافی مطالعہ کیا ہے لیکن لیوپس کے بارے میں کوئی امتیازی علامت ایسی نہیں ملی جو اسے دوسری علامات سے الگ کر دے۔کینسر کو بڑھنے سے روکنے کے لئے بھی کار بونیم سلف بہت مفید پائی گئی ہے۔کاربن اور سلفر سے مل کر ایسی دوا بنتی ہے جو سارے انسانی جسم پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہے۔جو دوا لیوپس جیسی بیماری میں شفا دے سکے وہ لازماً بہت اہم اور گہری دوا ہوگی۔مختلف قسم کے کینسر کی شفا کے لئے الگ الگ دوا ئیں چاہئیں لیکن بعض دوائیں ایسی ہیں جو ہر قسم کے کینسر میں اتنا فائدہ ضرور دے دیتی ہیں کہ ایک دو سال تک کینسر کی بڑھوتی رک جاتی ہے اور اس عرصہ میں اصل دوا تلاش کی جاسکتی ہے۔کار بونیم سلف ، آرسنک ، آئیوڈائیڈ اور گریفائیٹس ، تین چوٹی کی دوائیں ہیں جو کینسر میں مفید ہیں۔جلد کے کینسر میں پائیر وجینم اور سورائینم بھی مفید ہیں۔ان میں فرق کرنا مشکل نہیں ہے کیونکہ ان کے مریضوں کی اپنی اپنی شخصیت اور مزاج ہوتے ہیں۔جہاں مریض کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہ ہوسکیں وہاں آرسنک آئیوڈائیڈ سے علاج شروع کرنا چاہئے جو انتڑیوں کے کینسر میں بھی بہت مفید ہے۔کار بو نیم سلف جوڑوں کے درد سے بھی تعلق رکھتی ہے خصوصاً اگر یہ تکلیف پرانی ہو جائے تو کار بو نیم سلف رفتہ رفتہ شفا دے دیتی ہے۔بازوؤں اور ٹانگوں میں تشیخ اور درد ہوتا ہے جو لہروں کی صورت میں حرکت کرتا ہے، بار بار عود کر آتا ہے اور دیر تک جاری رہتا ہے۔باز و اور ہاتھ سن ہو جاتے ہیں۔اعصاب میں سوجن بھی نمایاں ہوتی ہے۔کار بونیم سلف کے دونوں عناصر کاربن اور سلفر ایک دوسرے سے متضاد علامات رکھتے ہیں۔سلفر گرم اور کا ر بن بہت ٹھنڈی دوا ہے۔اس میں بیرونی طور پر ہمیشہ سردی کا احساس ہوتا ہے اور جسم ٹھنڈا رہتا ہے لیکن اندرونی طور پر بعض جگہوں میں جلن ہوتی ہے۔سلفر