ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 253
کار بو نیم سلف 253 میں مسلسل گرمی پائی جاتی ہے جو جسم کا جزو بن جاتی ہے۔ہاتھ پاؤں اور سر کی چوٹی جلتے ہیں۔پلسٹیلا میں بھی گرمی کا احساس ہوتا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ پلسٹیلا میں پیاس نہیں ہوتی اور سلفر پیاس والی دوا ہے۔کار بونیم سلف کا مریض سردی برداشت نہیں کرتا پاؤں ذرا بھی ٹھنڈے ہو جائیں تو فورا بیمار پڑ جاتا ہے۔اگر کسی کا مزاج کار بوٹیم سلام کا ہو تو اسے اپنے پاؤں گرم رکھنے چاہئیں۔کار بو نیم سلف کی بعض علامتیں آرنیکا سے بھی ملتی ہیں۔آرنیکا میں خواہ ظاہری چوٹ لگے نہ لگے، چوٹ سے مشابہ درد پیدا ہوتے ہیں جیسے جسم کو کوٹا بیٹا گیا ہو۔کار بو نیم سلف کی دردیں بھی اس سے مشابہ ہوتی ہیں۔ذہنی علامتوں کے لحاظ سے بھی یہ بہت اہم دوا ہے۔مریض بہت جوشیلا ہوتا ہے، قوت برداشت نہیں رہتی ، غصہ بہت آتا ہے، کھوٹے کھرے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے، خود کشی کرنے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔سر میں خشکی سکری اور بال جھڑنے کی علامات بھی ملتی ہیں۔آنکھوں کے پیوٹوں کی بیماریوں میں بھی کار بو نیم سلف بہت مفید ہے لیکن اسے آنکھوں کی تکلیفوں میں صرف اس وقت استعمال کریں جب یہ مزاجی دوا ثابت ہو۔کار بو نیم سلف میں سردرد زیادہ تر بائیں طرف ہوتا ہے لیکن دائیں طرف بھی ہوسکتا ہے۔اس میں دائیں بائیں کا فرق قطعی نہیں۔ہاں عموماً صرف ایک طرف درد ہونے کارجحان پایا جاتا ہے۔نظر کی کمزوری اور رنگوں کی پہچان کا فقدان بھی کار بو نیم سلف کی علامت ہے۔کار بونیم سلف میں کان سے بد بودار مواد نکلتا ہے جس میں خون کی آمیزش بھی ہوتی ہے۔قوت سامعہ کمزور ہو جاتی ہے۔کانوں میں گھنٹیاں بجنے کی آواز آتی ہے۔کانوں کی تکلیف کی وجہ سے چکر آتے ہیں، جلد بے حس ہو جاتی ہے ، خارش کے ساتھ چھوٹے چھوٹے زخم بن جاتے ہیں جو پھیلتے ہیں، چہرے پر کیل مہاسے بھی نکلتے ہیں۔ایک اور بات جو خصوصیت سے کار بو نیم سلف میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ جلد اور اندرونی جھلیاں رفتہ رفتہ بے حس ہو جاتی ہیں اور زبان بھی احساس سے عاری ہو جاتی ہے۔منہ کے اندرونی حصے