ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 251
کار بو نیم سلف 251 61 کار بونیم سلفیور بیٹم CARBONEUM SULPHURATUM (Alcohol Sulphuris-Bisulphide of Carbon) کار بو نیم سلف میں سلفر اور کاربن کے عناصر موجود ہوتے ہیں لہذا یہ بھی انسانی نظام پر ایک بہت گہرا اثر کرنے والی دوا ہے۔اس کا دائرہ بہت وسیع ہے اور بہت گہری بیماریوں میں کام آتی ہے۔کار بونیم سلف کی علامتیں رکھنے والا مریض کار بو ویج کے مریض کی طرح کھلی اور تازہ ہوا پسند کرتا ہے۔اگر چہ اس کا جسم ٹھنڈا ہوتا ہے لیکن کھڑکی بند کرنا برداشت نہیں کرتا کیونکہ اسے آکسیجن کی کمی محسوس ہوتی ہے۔کاربونیم سلف میں سلفر موجود ہوتی ہے جس کا مزاج اس کے برعکس ہے۔اس کے باوجود مریض کھڑکیاں کھلی رکھنا چاہتا ہے لیکن ہوا کے جھونکے براہ راست برداشت نہیں کر سکتا۔بعض اور دواؤں کی طرح اس میں بھی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سینے پر بوجھ محسوس ہوتا ہے اور کمزوری لاحق ہو جاتی ہے۔اگر یہ بوجھ سینے کی درمیانی ہڈی (Sternum) پر محسوس ہو تو یہ انجائنا کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتی ہے اس لئے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ کسی کلینک سے معائنہ کروالینا چاہئے۔سینے پر کچھ بوجھ محسوس ہو تو ضروری نہیں ہے کہ دل کی تکلیف ہو۔بسا اوقات اعصابی نظام کی کمزوری یا پھیپھڑوں اور معدہ کی بیماریوں کی وجہ سے بھی یہ علامت ظاہر ہوتی ہے اس لئے یہ کوئی خاص امتیازی علامت نہیں ہے۔کار بو نیم سلف کے مریض کی تکلیفیں نہانے سے بڑھ جاتی ہیں جو سلفر کے عنصر کی موجودگی سے ہوتا ہے جس کے مزاج میں نہانے سے نفرت پائی جاتی ہے۔یہاں بھی ایک بار یک فرق مد نظر رکھنا چاہئے کہ سلفر کے مریض کی تکلیفیں نہانے سے بڑھتی نہیں بلکہ وہ نہانے سے گھبراتا ہے جبکہ کار بونیم سلف میں نہانے سے واقعتا بیماری میں اضافہ