ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 250
کاربالک ایسڈ 250 اس صورت میں کاربالک ایسڈ کو دیا درکھنا چاہئے۔کاربالک ایسڈ کے مریض کے منہ کا مزا بگڑ جاتا ہے۔پیاس مٹ جاتی ہے، بھوک کم ہو جاتی ہے۔کبھی شدید قبض اور کبھی بہت اسہال لگ جاتے ہیں۔اسہال بہت بد بودار ہوتے ہیں۔اگر قبض ہو تو سانس سے بھی بد بو آتی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اس دوا میں بہت تعفن کا مادہ پایا جاتا ہے۔قبض کے دوران جو متعفن مادہ باہر نہیں نکل سکتا وہ انتریوں کی جھلیوں کے راستے خون میں جذب ہو کر پھیپھڑوں تک پہنچتا ہے اور سانس میں بدبو پیدا کرتا ہے۔کار بالک ایسڈ البیومن (Albumen) کی بہت اہم دوا ہے۔اس کے مریض کو اگر البیومن آئے تو اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ بعض دفعہ لگتا ہے کہ پیشاب کی بجائے سیاہی خارج ہے۔ہو رہی ہے۔اس علامت میں تیرے بن تھینا (Terebinthina) بھی بہت مفید کاربالک ایسڈ کے مریض کو رات کو بار بار پیشاب آتا ہے جو پروسٹیٹ گلینڈ کی خرابی سے بھی ہوسکتا ہے۔یہ دوا گردوں اور پراسٹیٹ گلینڈ دونوں کی انفیکشن میں مفید ہے۔اگر رات کو بار بار پیشاب کی حاجت محسوس ہو تو اس کو بھی زیر نظر رکھیں۔بعض معالجین کا خیال ہے کہ اس تکلیف میں یہ 1x پوٹینسی میں اچھا کام کرتی ہے لیکن میرا اس بارے میں ذاتی تجربہ نہیں ہے۔کاربالک ایسڈ کمر کے اذیت ناک درد میں بھی کارآمد ہوسکتی ہے۔خاص طور پر اگر درد کمر سے نیچے دونوں کولہوں میں اترے تو یہ اس کی خاص علامت ہے۔اگر بچیوں میں آغاز بلوغت سے قبل لیکوریا ہو جائے تو کار بالک ایسڈ شافی دوا ثابت ہو سکتی ہے۔اس کے مریض کے حیض اور لیکوریا کی رطوبت میں بد بو ہوتی ہے۔اگر کاربالک ایسڈ کا مریض ہو تو اس کے پاؤں اور ٹانگوں میں اینٹھن اور ہڈیوں میں درد کا رجحان بھی اسی دوا کے استعمال سے ختم ہوسکتا ہے۔اس کی جلدی علامات میں خارش پیدا کرنے والے چھالے، جلن اور درد ملتے ہیں۔دافع اثر دوائیں : سرکہ۔چاک۔آئیوڈم طاقت 30 تک