ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 249 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 249

کاربالک ایسڈ 249 60 کار بالک ایسڈ CARBOLIC ACID ایک زمانے میں کاربالک ایسڈ سے بنا ہوا صابن ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں جراثیم کے خلاف حفظان صحت کے لئے بہت استعمال ہوتا تھا۔اس کی بو بہت تیز ہوتی ہے۔ہومیو پیتھک دوا کے طور پر کار بالک ایسڈ کا استعمال بالکل مختلف ہے۔شہد کی مکھیاں یا بھڑ کاٹنے کی وجہ سے جب جسم میں خطرناک رد عمل اور الرجی ظاہر ہو تو اس میں کاربالک ایسڈ بہترین دوا ثابت ہوتی ہے۔اس کی ایک دو خوراکیں دینے سے ہی مکمل شفا ہوسکتی ہے۔کاربالک ایسڈ احساسات پر اثر انداز ہونے والی دوا ہے۔اس کے مریض کی سونگھنے کی صلاحیت غیر معمولی طور پر تیز ہو جاتی ہے۔معمولی سی بو بھی جو عام طور پر محسوس نہیں ہوتی ایسے مریض کو فورا محسوس ہو جاتی ہے۔کاربالک ایسڈ میں درد بہت شدید اور اچانک ہوتے ہیں۔اچانک آتے ہیں اور اچانک چلے بھی جاتے ہیں۔بعض اعضاء پر فالجی اثر پایا جاتا ہے۔اسی طرح بعض اعضاء پر ربڑ کے بینڈ بندھے ہونے کا احساس ہوتا ہے۔اگر ہونٹوں اور گالوں کے اندرسوزش کے حلقے بن جائیں تو اس میں بھی کار بالک ایسڈ مفید ثابت ہوتی ہے۔آنکھ کے اوپر اور اس کے اردگرد اعصابی درد ہوتا ہے۔اگر یہ درد آنکھ میں اپنا مستقل مقام بنالے تو کار بالک ایسڈ مفید دوا ثابت ہوگی۔اس کی ایک علامت یہ ہے کہ بھوک غائب ہو جاتی ہے، ہوا سے پیٹ میں تناؤ محسوس ہوتا ہے۔پیٹ کے ایک خاص حصہ میں ہوا کا غیر معمولی زور کار بالک ایسڈ کی خاص علامت ہے کیونکہ کا ربالک ایسڈ چھوٹے دائروں میں تشنجی کیفیات پیدا کرتا ہے۔انتڑیوں وغیرہ کے کسی حصہ پر اس کا اثر پڑتا ہے اور ایسی جگہوں پر ہوا تناؤ پیدا کرتی ہے۔اور ہے۔