ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 220 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 220

کیمفر 220 ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔اگر متلی اور قے نہ ہو تو جسم برف کی طرح ٹھنڈا ہوتا ہے، غذا کا ذائقہ کڑ وامحسوس ہوتا ہے۔کیمفر میں اسہال کی نسبت قے کا زیادہ رجحان ہوتا ہے۔اسہال تھوڑے تھوڑے آتے ہیں اور ان کے ساتھ کمزوری اور شیخ ضرور ہوتے ہیں۔اگر اسہال اور الٹیاں بہت زیادہ ہوں اور صبح پنڈلیوں پر اثر کرے تو وریٹرم البم (Veratrum Album) چوٹی کی دوا ہے۔دونوں دواؤں میں جسم ٹھنڈا ہوتا ہے لیکن ور پیٹرم البم میں صرف پیشانی پر ٹھنڈا پسینہ آتا ہے۔اور میٹرم البم دو انتہاؤں کے درمیان ہے، یا سخت قبض ہوتی ہے یا بہت کھلے اسہال۔انتہائی سخت اور ضدی قبض جو ہفتہ ہفتہ چل رہی ہو، اس میں جب کوئی اور دوا کام نہ آئے تو ور بیرم البم کی چند خوراکیں اثر دکھاتی ہیں۔مثانے میں فالجی اثرات نمایاں ہوں اور زور لگا کر پیشاب آئے تو کیمفر مفید دوا ہے۔مثانہ پیشاب سے بھرا ہونے کے باوجود پیشاب رک جاتا ہے۔جلن اور تشیخ پیدا ہوتا ہے۔مثانے کے فالجی اثرات میں کیمفر بہت نمایاں ہے۔کیمفر کا جنسی اعضاء پر بھی اثر ظاہر ہوتا ہے۔اگر بہت زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے تو مریض ہمیشہ کے لئے جنسی طاقت سے محروم ہو جاتا ہے۔بعض اوقات اس کے بالکل برعکس نتیجہ پیدا ہوتا ہے اور غیر معمولی جوش پیدا ہو جاتا ہے جو صحت کی علامت نہیں ہے۔جہاں کسی دوا میں اس قسم کی متضاد علامتیں ملتی ہوں اسے خاص طور پر ذہن میں رکھنا چاہئے تا کہ عین موقع پر وہ دو یا د آ جائے۔کیمفر میں بار بار نزلے اور بلغمی کھانسی کا بھی رجحان ہے اور اس لحاظ سے یہ اینٹی مونیم کروڈ اور امونیم کا رب کے ہم پلہ ہے۔یہ دونوں دوائیں اس مستقل کمزوری کو جو بار بار نزلے کو دعوت دیتی ہو، دور کرتی ہیں۔موسم کی معمولی سی تبدیلی سے فور نزلہ شروع ہو جاتا ہے۔ناک ٹھنڈی ہوتی ہے اور رطوبت بہتی ہے۔ہوا کی نالیوں میں بلغم پھنسنے کا رجحان ہوتا ہے جس سے سانس گھٹتا ہے۔گہرا سانس مشکل سے آتا ہے، سانس کھینچنے پر کھانسی شروع ہو جاتی ہے اور دل کی دھڑکن بہت تیز ہوتی ہے۔