ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 210 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 210

210 کلکیر یا سلف بہت چوٹی کے ایلو پیتھک ڈاکٹر اور سرجن بھی تھے اور سارے جسمانی نظام کو سمجھتے تھے وہ کلکیر یا سلف کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ مرگی کو جڑوں سے اکھیڑ دیتی ہے۔بعض اوقات دماغ میں ٹیومر کی وجہ سے مرگی ہو جاتی ہے۔دماغ میں چوٹ لگنے کی وجہ سے بھی مرگی کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔بعض لوگوں کی کھوپڑی کی بناوٹ پیدائشی طور پر ہی ایسی ہوتی ہے کہ دیکھتے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ مرگی کا مریض ہے۔ایسے مریض کے اندر مستقل پیدائشی نقص ہوتا ہے جس کا جڑ سے اکھیڑا جانا بظاہر ناممکن ہے۔کینٹ کا یہ فقرہ کہ کلکیر یا سلف مرگی کا علاج ہے، ایسے پیدائشی مریضوں پر اطلاق نہیں پاتا۔ہاں ان کا یہ تجربہ درست ہے کہ بہت سے مرگی کے مریضوں کو کلکیر یا سلف نے غیر معمولی فائدہ دیا ہے۔اگر بچپن میں کوئی ایسی بیماری لاحق ہو جس کے نتیجہ میں مرگی کے دورے پڑنے لگیں تو ایسی مرگی کا علاج ممکن ہے۔ان بیماریوں میں ہیضہ اور پیچیش بہت نمایاں ہیں۔اگر زہر یلے دست اور خطر ناک پیچش ہو اور ڈاکٹر کوئی دوا دے کر اس کو زبردستی ٹھیک کر دیں تو اس بات کا خطرہ ہوتا ہے کہ ایسے بچے کو مرگی ہو جائے۔میں ایسے مریضوں کو کیو پرم دیتا رہا ہوں۔اس کے علاوہ آرٹی میسا (Artemisia) مدرکچر بھی دی ہے۔وقتی فائدہ تو ضرور ہوتا ہے لیکن ان کے ذریعہ مکمل شفا نہیں دیکھی۔یہ دوائیں مستقل دینی پڑتی ہے۔اونچی طاقت میں بھی دے کر دیکھی ہیں۔دوروں میں لمبا وقفہ تو ضرور پڑ جاتا ہے لیکن مکمل شفا نہیں ہوتی۔اس کا مطلب ہے کہ ہمیں بعض اور دوائیں تلاش کرنی چاہئیں جو مرگی کو مستقلاً جڑ سے اکھیڑ دیں۔کینٹ کے نزدیک کلکیر یا سلف یہ طاقت رکھتی ہے۔میرے مشاہدہ میں مرگی سے مکمل شفامحض اس صورت میں ہوئی ہے کہ وہ بیماری عود کر آئی جس کو دبانے کے نتیجہ میں مرگی شروع ہوئی تھی۔اصل بیماری دوبارہ ظاہر ہونے پر بعض مددگار دوائیں دی جاسکتی ہیں مثلاً بخار کے لئے آرسنک وغیرہ اور پیٹ کا شیخ دور کرنے کے لئے میگ فاس وغیرہ لیکن اینٹی بائیوٹک اور بہت طاقتور دوائیں جو بیماری کو دبا دیں، ان سے احتر از لازم ہے۔