ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 209
کلکیر یا سلف 209 51 کلکیر با سلف CALCAREA SULPHURICA (Sulphate of Lime-Plaster of Paris) کلکیریا سلف اور کار بو نیم سلف میں سلفر کا عنصر مشترک ہے اور سلفر کی بہت سی علامات بھی لیکن کاربن کی بجائے کلکیریا کا عنصر شامل ہونے کی وجہ سے دونوں دوائیں الگ الگ مزاج رکھتی ہیں۔کلکیر یا سلف کی ایک خاص علامت گہرے Abscess یعنی پھوڑے پیدا ہونے کا رجحان ہے۔اس لحاظ سے یہ سلفر اور کلکیریا کارب دونوں سے ملتی ہے اور پائیر وجینم سے بھی اس کی مشابہت ہے۔پائیرو بینم (Pyrogenium) متعفن پھوڑوں میں اس صورت میں کام آتی ہے جب خون میں تعفن پھیل جائے۔سلیشیا کے پھوڑوں میں بھی تعفن ہوتا ہے لیکن اس میں عمو مأخون میں تعفن نہیں ہوتا ، جب ہو تو بہت سخت ہوتا ہے۔گندے خون کے نتیجہ میں جو پھوڑے نکلتے ہیں ان میں پائیر وجینم کے علاوہ کلکیر یا سلف مفید ہے۔اسی طرح کینسر کا رجحان رکھنے والے پھوڑوں سے بھی اس کا گہرا تعلق ہے اور کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور پہنچاتی ہے۔وہ کینسر کے زخم جوجلد پر ظاہر ہو کر نا سور بن جاتے ہیں اور رسنے لگتے ہیں ان میں بھی مفید ہے۔کلکیر یا سلف مرگی کی بہترین دوا بتائی جاتی ہے۔اس زمانہ میں مرگی کی بیماری میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔وضع حمل کے وقت بعض ایسے علاج کئے جاتے ہیں جن کا بچوں کے دماغ پر اثر پڑتا ہے۔بعض دواؤں کے بداثرات کے نتیجہ میں بھی مرگی کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔ایسے بچوں کے لئے ٹکسالی کے نسخوں کے علاوہ ایسی دوائیں ڈھونڈنی چاہئیں جن سے مرگی کا مکمل علاج ہو سکے۔کلکیر یا سلف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے مرگی کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر کینٹ جو ہومیو پیتھ بننے سے پہلے