ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xxiv
دیباچه 12 ہومیو پیتھک ادویہ کا استعمال روز مرہ علاج میں یہ بات یاد رکھیں کہ وہ مریض جو گہری اور دیرینہ بیماریوں میں مبتلا ہیں مثلاً دمه، مرگی وغیرہ۔انہیں سرسری نسخہ دنیا درست نہیں بلکہ وقت نکال کر ایسے مریضوں کا تفصیلی انٹرویوں لینا چاہیے اور بیماری کے متعلق تمام باتیں پوچھ کر ان کی مزاجی دوا تلاش کرنی چاہیے۔بہت سے مریض ایسے بھی ہیں جنہیں میں نے ان کی بیماری سے متعلق معرف دوائیں اور ٹکسالی کے نسخے دیئے مگر انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔لیکن جب مریض کو سامنے بٹھا کر اس کی تفصیلی علامتیں معلوم کیں اور بیماری کو بھلا کر صرف علامتوں کو دیکھا تو تشخیص کردہ دوا نے حیرت انگیز طور پر کام کیا۔مثلا مرگی کے مریضوں میں بیماری کے حملہ کے آغاز پر ہونے والا اورا (Aura) الگ الگ ہوتا ہے اور اس کی علامات مختلف ہوتی ہیں۔بعض دوائیں ایسی ہیں جن کا مرگی کے مرض میں ذکر نہیں ملتا۔مثلاً ایک مریض کو سر میں شور محسوس ہوتا تھا اور شور سے چوٹ سی لگتی تھی جس سے اسے وحشت ہوتی تھی اور نیند نہیں آتی تھی۔سر اور دل شکنجے میں جکڑا ہوا محسوس ہوتا تھا۔اسے میں نے کیکٹس (Cactus) دی تو اس کی کایا پلٹ گئی اور وہ آرام سے سونے لگا۔اور اسے مرگی کے مرض سے نجات مل گئی۔جبکہ کیکٹس کا مرگی کی دواؤں میں کوئی ذکر نہیں۔ایسے مریضوں کو جن کا اور ا سر میں، ہوا نہیں چند دن زیر نظر رکھ کر ان کے لئے نسخہ تجویز کرنا چاہیے۔سر تمتما اٹھے اور خون کا دباؤ بہت بڑھ جائے تو وہاں کیکٹس دینی چاہیے۔اسی طرح بعض اور بیماریوں میں مثلاً پتے کی تکلیف میں مریض کی ساری علامتیں دیکھنی چاہئیں۔اس سلسلہ میں بہت سی دوائیں کام دے سکتی ہیں۔ایک دفعہ میں نے ایک مریض کو پتہ کے درد کے لئے تمام معروف دوائیں دیں لیکن اسے فرق نہیں پڑا۔وقت نکال کر جب اس کی عمومی علامات کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ کسی نفسیاتی اور اعصابی دباؤ کی وجہ سے اس کا اعصابی نظام درہم برہم ہو