ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 187
کلکیریا آرس 187 46 کلکیریا آرس CALCAREA ARS مرگی کے مرض میں اگر چہ کلکیر یا سلف زیادہ مشہور ہے لیکن کلکیر یا آرس بھی مرگی کی اہم دوا ہے اور کلکیر یا سلف کے بعد اس کا نمبر آتا ہے۔اس کے متعلق ڈاکٹر کینٹ نے لکھا ہے کہ کلکیر یا آرس کے استعمال سے مرگی کی بیماری سے مکمل نجات مل سکتی ہے۔ہر مرگی قابل علاج نہیں ہوتی کیونکہ بعض دفعہ اس کا سر کی ساخت کی خرابی سے بھی تعلق ہوتا ہے۔اس کا اپریشن ضروری ہوتا ہے۔کلکیریا آرس میں جسم کے اعصاب پھڑکنے کا رجحان پایا جاتا ہے اور فالجی کمزوریاں بھی ملتی ہیں۔دراصل کیلیشیم ایک شدید کمزوری پیدا کرنے والی دوا ہے۔اگر جسم میں اس کا توازن معمولی سا بھی بگڑ جائے تو بہت زیادہ کمزوری پیدا ہوتی ہے۔بلڈ پریشر بھی متاثر ہوتا ہے اور بعض دفعہ مریض اچانک بے دم ہو کر گر جاتا ہے۔مویشیوں میں یہ بیماری عام ملتی ہے۔کیلشیم کا توازن بگڑنے سے وہ ایک دم نڈھال ہو کر گر جاتے ہیں۔تاہم عموماً روزمرہ کی کمزوری کا شکار ہونے والے مریضوں کا کلکیریا کے توازن بگڑنے سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ معدے میں تیز اب پیدا ہونے کی وجہ سے بعض دفعہ اچانک کمزوری کے دورے پڑتے ہیں۔یہ کمزوری خطرناک اور ڈراؤنی تو ضرور محسوس ہوتی ہے مگر مہلک ثابت نہیں ہوتی۔ایسے مریض بعض دفعہ بے ہوش بھی ہو جاتے ہیں لیکن یہ مرگی کی بیماری نہیں ہوتی۔اگر مرگی میں اس قسم کے کمزوری اور بے ہوشی کے حملے ہوں تو وہ زندگی کا مستقل حصہ ہوتے ہیں۔اچانک بے ہوشی کا دورہ لازم نہیں کہ مرگی کی وجہ سے ہی ہو۔مرگی کا مرض جو پیدائشی ساخت کی خرابی کی وجہ سے ہو بعض دفعہ مریض کی سوچ اور فکر پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔اس کے ماتھے سے پتہ چل جاتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر کمزور -