ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 186

کیلیڈیم 186 یہ تمباکونوشی کی کثرت سے پیدا ہونے والی جنسی کمزوریوں میں بھی مفید ہے۔اس لحاظ سے یہ پکرک ایسڈ اور سیلینیم سے مشابہ ہے۔اس کا مریض مستقل خوف کا شکار رہتا ہے۔اندھیرے کا خوف ،مستقبل کا خوف حتی کہ اپنے سایہ سے بھی خوفزدہ ہو جاتا ہے۔کیلیڈیم کے مریض کو چکر بھی آتے ہیں۔آنکھیں بند کرنے سے چکروں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔کو نیم میں چکروں کی علامت اس سے بالکل برعکس ہوتی ہے اور چکر آنکھیں کھولنے سے بڑھتے ہیں۔لیٹنے اور آنکھوں کو حرکت دینے سے بھی چکر آنے لگتے ہیں۔ایسے چکروں میں کو نیم اکیلی فائدہ نہیں دیتی بلکہ کا کولس کے ساتھ ملا کر دینے سے چکروں کی بہت طاقتور دوا بن جاتی ہے۔ان دونوں میں حرکت سے تکلیف بڑھتی ہے۔کیلیڈیم میں گرمی سے تکلیف بڑھتی ہے۔گرم موسم یا گرم کمرہ میں بیماری میں اضافہ ہوتا ہے۔جبکہ جسم کو ٹھنڈک پہنچانے سے آرام ملتا ہے مگر معدے میں ٹھنڈی چیزوں سے تکلیف بڑھ جاتی ہے اس لحاظ سے یہ فاسفورس کے بالکل برعکس ہے۔فاسفورس میں معدہ کو ٹھنڈی چیز سے آرام ملتا ہے۔کیلیڈیم کے مریض کی نیند ہلکے سے شور سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ایک دفعہ آنکھ کھل جائے تو دوبارہ ساری رات نیند نہیں آتی۔کیلیڈیم میں جلد میں سنسناہٹ ہوتی ہے جیسے کوئی کیڑا چل رہا ہے۔اس کے پسینہ میں میٹھی سی بو ہوتی ہے جس کے اوپر لکھیاں بھنبھناتی ہیں، جلد پر بہت خارش ہوتی ہے جس کی کوئی معین وجہ نہیں ہوتی۔جسم میں کیڑا چلنے کا احساس بہت بڑھ جائے تو سارے بدن پر ہر وقت خارش ہونے لگتی ہے۔ایگزیما یا دانوں کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔بعض دفعہ عورتوں میں یہ خارش اندرونی اعضاء میں شدید عذاب کی صورت اختیار کر کے اعصاب شکنی کا باعث بنتی ہے۔کیلیڈیم کی تکالیف حرکت سے بڑھ جاتی ہیں۔پسینہ آنے اور سونے سے تکلیف میں کمی ہو جاتی ہے۔مددگار دوا نائیٹرک ایسڈ۔دافع اثر دوا: آرم ٹرائی فلم۔طاقت: 30