ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 179
179 ساتھ رکھنا چاہئے۔بائی کی دردیں جو کیکٹس سے تعلق رکھتی ہیں ان میں بازوؤں اور رانوں کے عضلات میں کھچاؤ اور سکڑن کی علامت ظاہر نہیں ہوتی کیونکہ کیکٹس کا صرف چھلے دار ریشوں سے تعلق ہے۔لمبے عضلات پر اس کا تشنجی اثر نہیں ہوتا۔کولوسنتھ (Colocynthis) لمبے عضلات پر اثر رکھنے والی اہم دوا ہے۔بیلا ڈونا بھی مفید ہے لیکن کیکٹس کا لمبے عضلات پر اثر نہیں ہے۔بیلا ڈونا میں خون کا دوران دماغ کی طرف ہو جائے تو بیماری کے شدید حملہ کی صورت میں کیو پرم کے اثر کی طرح جکڑن کا احساس ہو گا لیکن کیکٹس دماغ میں سکرن کا احساس پیدا نہیں کرتا کیونکہ دماغ میں چھلے دار ریشے نہیں ہوتے۔کیکٹس کا مریض دماغ پر حملہ سے بے ہوش اور مدہوش سا ہو جاتا ہے لیکن اسے تشبیح نہیں ہوتا۔بیلاڈونا میں دماغ کا کمپاؤ پاؤں کے انگوٹھے تک اثر کرتا ہے اور وہاں شیخ شروع ہو سکتا ہے۔کیکٹس میں چکر بھی نمایاں ہیں جو جسمانی محنت اور تھکاوٹ سے بڑھ جاتے ہیں۔آرام سے افاقہ ہوتا ہے، حرکت سے تکلیف۔سردرد دائیں طرف زیاد و جو شور اور تیز روشنی سے بڑھ جاتا ہے۔کیکٹس میں دھڑکن بھی پائی جاتی ہے۔بعض اوقات سارا جسم دھڑک رہا ہوتا ہے۔بیلا ڈونا میں بھی بہت دھڑکن ہے لیکن ساتھ جسم میں گرمی اور حدت کا احساس بھی ہوتا ہے جو کیکٹس میں مفقود ہے۔اگر بائیں بازو میں سن ہونے کا رجحان ہو اور کھچاؤ بھی محسوس ہو تو یہ علامت کیکٹس کا تقاضا کرتی ہے۔بعض دفعہ دل کی بیماری کے آغاز میں یہ علامت پیدا ہوتی ہے مگر ضروری نہیں کہ بائیں بازو کا درد دل ہی کا ہو ، معدے کی تیزابیت سے بھی یہ علامت پیدا ہوتی ہے۔لیکن اگر تنگی اور گھٹن ساتھ ہو جیسے کسی نے مضبوطی سے بھینچ دیا ہے یا دھڑکن اور سن ہونے کا بھی احساس ہو تو کیکٹس ہی دوا ہوگی۔اگر کبھی کیکٹس کے مریض کو بخار ہو تو گیارہ بجے صبح شروع ہوتا ہے۔قبل از دو پہر