ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 153 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 153

سمتھ 153 37 ہمیتھ BISMUTHUM بسمتھ کو پرانے زمانے میں ایلو پیتھک ڈاکٹر اسہال کی بیماری میں استعمال کرتے تھے۔یہ اسہال کو تو خشک کر دیتی ہے مگر انتڑیوں کی اس مرض کو دور نہیں کرتی جس کی اسہال محض ایک علامت ہوتے ہیں۔درد کا احساس بدستور رہتا ہے۔ہومیو پیتھی میں اس کی دماغی علامات بہت نمایاں ہوتی ہیں۔مریض ایک منٹ کے لئے بھی تنہا نہیں رہنا چاہتا۔ہر وقت کسی نہ کسی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے۔بڑھاپے میں اکثر ایسے مریض ملتے ہیں جن کے پاس ہر وقت ضرور کوئی نہ کوئی ہونا چاہئے۔انہیں اپنی کہانی سناتے رہنے کی تمنا ہوتی ہے۔بسمتھ دانت کے دردوں میں بھی مفید ہے۔مسوڑھے سوج جاتے ہیں۔زبان سفید اور متورم ہو جاتی ہے۔کناروں پر سیاہی مائل زخم ہو جاتے ہیں جو گینگرین کی یاد دلاتے ہیں۔بسمتھ کے مریض کی قوت ہاضمہ کمزور ہو جاتی ہے اور فاسفورس اور ایتھوزا کی طرح معدے میں پانی نہیں ٹھہرتا ، گرم ہوتے ہی تے ہو جاتی ہے جبکہ ٹھوس غذا کھانے پرتے نہیں ہوتی۔بہت بد بودار ڈکار آتے ہیں۔پیٹ کا دردڈائسکو ریا سے مشابہ ہوتا ہے۔مریض پیچھے کی طرح جھکتا ہے۔درد کی نوعیت عام پیٹ درد سے مختلف ہوتی ہے جسے مریض بیان نہیں کرسکتا۔اسہال کے دوران در دنہیں ہوتا۔بسمتھ سے اسہال خشک کر دیئے جائیں تو درد شروع ہو جائے گا۔معدہ میں سوزش ہوتی ہے۔بسمتھ انجائنا میں بھی مفید دوا ہے۔اس میں عموماً سینے کی ہڈی کی بجائے بائیں طرف دل سے درد اٹھتا ہے اور کندھے سے ہو کر انگلیوں کے کناروں تک جاتا ہے۔بسا اوقات