ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 150
بر برس 150 تک اسے نکالنے کے لئے زور لگاتا رہتا ہے۔پیشاب میں کبھی کبھی پیپ جیسی چیز یا ناک جیسا مادہ اور کبھی سرخ ذرے شامل ہوتے ہیں اور پیشاب سخت متعفن ہوتا ہے۔کندھوں، بازوؤں ، ہاتھوں، ٹانگوں اور پاؤں میں اور ناخنوں کے اندر بہر دار درد اور کمزوری بر برس کی خصوصی علامتیں ہیں۔بر برس کے دردوں کی خاص علامت یہ ہے کہ یہ ایک مقام سے سائیکل کے پہیہ کے تاروں کی طرح چاروں طرف پھیلتے ہیں۔گردے کے درد کی بھی یہی عادت ہے کہ نیچے مثانہ کی طرف بھی ٹیسیں چلتی ہیں اور اوپر کم اور جگر کی طرف بھی۔درد کی جواہریں نیچے اترتی ہیں وہ مردوں کے خصیوں کی طرف جانے والے اعصابی ریشوں کے راستے خصیوں میں بھی محسوس ہوتی ہیں۔اکثر ایسے مریض کو پیشاب کی حاجت بیٹھے بیٹھے اگر نہ بھی محسوس ہو تو کھڑا ہوتے ہی یا چلنے پر پیشاب کی سخت حاجت ہوتی ہے جس کا روکنا مشکل ہوتا ہے۔اگر مریض مردانہ یورینل (Urinal) یا کموڈ (Commode) میں کھڑا ہو کر پیشاب کرے تو پیشاب کا بڑا حصہ خارج ہونے کے باوجود پیشاب کی پتیلی دھار ختم ہونے میں ہی نہیں آتی اور یوں لگتا ہے کہ گردہ مسلسل پیشاب بنائے چلا جا رہا ہے۔بربرس میں پیشاب کی تکلیف کی جو علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ان میں کبھی پیشاب زیادہ اور پتلا ہو جاتا ہے اور کبھی کم اور گاڑھا ہو کر بہت بد بودار ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں بہت فاسد مادے موجود ہوتے ہیں۔پیشاب کی زیادتی یا پیشاب کی کمی یہ دونوں علامتیں بربرس میں پائی جاتی ہیں۔اگر پیشاب زیادہ آئے تو گر دے صاف ہو جاتے ہیں اور بد بو وغیرہ ختم ہو جاتی ہے۔پیشاب بہت کم ہو جائے تو بہت گہرے رنگ کا تھوڑا پیشاب آئے گا جو سخت بدبودار ہوتا ہے۔جب پیشاب کم ہو تو پیشاب کی نالی میں کچھ کچھ جلن ہوتی رہتی ہے۔پر برابر یوا(Pereira Brava) کا گردے کا درد عموماً ایک رخ پر چلتا ہے۔اکثر گر دے کے نیچے ر ان کی طرف اترتا ہے لیکن بر برس میں دردخواہ گردے میں ہو یا پتے میں، چاروں طرف ھیلتا ہے۔اس علامت کے ساتھ پتے کی درد میں بر برس بہت مؤثر ہے۔ہفتہ دس دن کے اندر ہی پتے کی پتھریاں ٹوٹ ٹوٹ کر فضلے کے ساتھ خارج ہونے لگتی ہیں۔