ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 146 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 146

بنزوئیک ایسڈ 146 سے بہت زیادہ ہو جائے ایسی غلطیاں ہو جایا کرتی ہیں۔اس لئے خواہ مخواہ ان لوگوں پر بنزوئیک ایسڈ استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ہاں اگر ذہنی پریشانی اور پیشاب کی علامتیں بنزوئیک ایسڈ والی ہوں اور پھر تحریر میں غلطیاں بھی ہوں تو بنز و ٹیک ایسڈ سے آرام آئے گا۔جزو ٹینک ایسڈ میں سر میں چکر آتے ہیں اور کسی ایک طرف گرنے کا خوف رہتا ہے۔سر درد ہوا کے جھونکوں، سردی لگنے اور سر کو نگا کرنے سے بڑھ جاتا ہے۔کنپٹیوں کی شریانوں میں گرمی کا احساس جس کی وجہ سے کانوں کے اردگر دسوزش والی پھپھلی ورم ہو جاتی ہے۔سردرد کے ساتھ متلی اور قے کا رجحان بھی ہوتا ہے، سر پر ٹھنڈا پسینہ آتا ہے، ہاتھ بھی بہت ٹھنڈے ہو جاتے ہیں، ناک میں خارش اور درد کے ساتھ سونگھنے کی حس کم ہو جاتی ہے، آنکھوں میں جلن اور تپکن، آنکھوں کی تکلیفیں کھلی ہوا میں اور ٹیوب لائٹ میں بڑھ جاتی ہیں۔سردرد گدی سے شروع ہوتا ہے۔جنز ویک ایسڈ میں چہرے پر سرخ رنگ کے چٹاخ بن جاتے ہیں جو صحت کی علامت نہیں بلکہ بیماری کی نشاندہی کرتے ہیں۔عموماً عورتوں کے چہرے پر یہ علامت ظاہر ہوتی ہے۔چہرہ کے ایک جانب گرمی اور جلن کا احساس ہوتا ہے۔بعض دفعہ چہرے پر چھوٹے چھوٹے آبلے پڑ جاتے ہیں۔چہرے کی علامات بیرونی گرمی سے اور دبانے سے کم ہو جاتی ہیں۔بنزوئیک ایسڈ میں کھانا کھاتے ہوئے پسینہ آتا ہے، معدہ میں سختی اور دباؤ کا احساس، جگر کے مقام پر چھن اور درد، اسہال جھاگ والے، بد بودار اور پتلے ہوتے ہیں۔ہوا بہت خارج ہوتی ہے۔بنزوئیک ایسڈ میں صبح کے وقت مریض کی آواز بیٹھی ہوئی ہوتی ہے۔سبزی مائل بلغم خارج ہوتی ہے۔کھانسی رات کو بڑھ جاتی ہے۔رات کو سوتے ہوئے درد میں اضافہ ہوتا ہے۔آدھی رات کے بعد شدید دھڑکن اور گرمی کی شدت کی وجہ سے مریض کی آنکھ کھل جاتی ہے۔