ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 145 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 145

بنزوئیک ایسڈ 145 35 بنز نوئیکم ایسڈم BENZOICUM ACIDUM (Benzoic Acid) بنزوئیک ایسڈ کی سب سے واضح علامت پیشاب میں شدید بو ہے جو گھوڑے کے پیشاب کی بدبو سے مشابہ ہوتی ہے اور اس پیچھا چھڑوانا بہت مشکل ہوتا ہے۔یہ ایسی غیر معمولی بد بو ہوتی ہے کہ بعض دفعہ کپڑے دھونے سے بھی ختم نہیں ہوتی۔جس گھر میں ایسے مریض ہوں اگر وہ کپڑوں کی صفائی کا خاص اہتمام نہ کریں تو ایسے گھر میں داخل ہوتے ہی شدید بو کا جھونکا آتا ہے۔بعض بچے رات کو بھی بستر گیلا کر دیتے ہیں جس سے دوہری مصیبت بن جاتی ہے۔سارا گھر بد بو سے بھر جاتا ہے اور کپڑوں پر ایسے داغ لگ جاتے ہیں جو دھونے سے بھی نہیں اترتے۔پیشاب بہت گہرے رنگ کا سیاہی مائل ہوتا ہے۔ایسے مریضوں میں اگر یورک ایسڈ کی زیادتی ہوتو یہ دوا کام آتی ہے۔گردوں میں درد اور اس کے دیگر افعال میں کمزوری واقع ہو جاتی ہے۔عموماً کھلا پیشاب آتا ہے لیکن پیشاب کی مقدار کم ہو جائے تو جوڑوں میں درد ہونے لگتا ہے۔بنزوئیک ایسڈ کا مریض لکھتے ہوئے لفظ چھوڑ دیتا ہے۔وقتی طور پر تحریر کی غلطی ذہنی الجھاؤ کی وجہ سے بھی پیدا ہوتی ہے۔بعض دفعہ ذہن بہت تیز کا م کرتا ہے لیکن ہاتھوں کی رفتار اس نسبت سے ذہنی رفتار کا ساتھ نہیں دیتی۔یہ علامت بعض اور دواؤں میں بھی موجود ہے۔اسے کسی خاص دوا سے منسلک کرنا درست نہیں ہے۔جب بھی تحریر میں لفظ چھوٹ رہے ہوں یا ایک لفظ کی بجائے کوئی دوسرا لفظ لکھا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ذہن الفاظ سے زیادہ معافی کی طرف متوجہ ہے۔اس لئے بیک وقت دونوں میں اعتدال قائم نہیں رکھ سکتا۔ایسے لوگوں کی تحریروں میں جہاں سوچ کی رفتار لکھنے کی رفتار