ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 130 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 130

برائیٹا کارب 130 ضرور استعمال کرنی چاہئے۔اسی طرح سینیگا اور امونیم کا رب بھی بوڑھوں کے پھیپھڑوں کی تکلیفوں میں بہت کام آتی ہیں۔برائیٹا کارب کا کان کے درد سے بھی تعلق ہے۔اگر یہ درد مزمن ہو جائے تو بعض دفعہ نزلے کے آثار نہیں بھی ہوتے لیکن پھر بھی کان میں درد ہوتا رہتا ہے۔اگر اس کے ساتھ کان میں بوجھ بھی محسوس ہو تو برائیٹا کا رب بہت اچھی دوا ہے۔برائیلا کا رب میں اجابت با ہم جڑی ہوئی تھلیوں کی شکل میں اور سخت ہوتی ہے اور نکس وامیکا کی طرح یہ احساس رہتا ہے کہ کھل کر اجابت نہیں ہوئی۔پیٹ میں درد بھی ہوتا ہے۔مراد نہ اور زنانہ جنسی کمزوریوں میں بھی برائیٹا کارب مفید دوا ہے لیکن اگر بہت اونچی طاقت میں دے دی جائے تو بعض دفعہ برعکس نتیجہ نکلتا ہے یعنی جنسی کمزوریاں بڑھ جاتی ہیں اس لئے رفتہ رفتہ پوٹینسی کو بڑھانا چاہئے۔عورتوں میں جنسی کمزوریوں کے ساتھ بانجھ پن بھی پایا جاتا ہے۔اس میں بیضہ دانیاں یعنی Ovaries سوج کر موٹی ہونے کی بجائے سکڑ کر چھوٹی ہو جاتی ہیں۔اس بیماری میں برائیٹا کا رب فوراً استعمال کرنی چاہئے کیونکہ یہ علامت بعض اوقات کینسر میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔برائیا کا رب میں گلے اور ٹانگوں کا فالج نمایاں ہے لیکن اگر جسم کے صرف ایک طرف فالج کا حملہ ہو تو زیادہ تر سلفر، کاسٹیکم ، رسٹاکس، لیکیس اور کیڈ میم سلف حسب علامات استعمال ہو سکتی ہیں۔برائیٹا کا رب نیچے کے دھڑ کے فالج میں اچھی دوا ہے۔اس کے علاوہ کا کولکس بھی نچلے دھڑ کے فالج میں خصوصی اثر رکھتی ہے مگر اونچی طاقت میں دینی چاہیئے۔برائیٹا کارب کی کھانسی کی یہ عجیب علامت ہے کہ جب تک مریض پیٹ کے بل لیٹا ر ہے کھانسی میں افاقہ رہتا ہے اور ہر دوسری کروٹ پر کھانسی بڑھ جاتی ہے۔برائیٹا کا رب میں جلد پر مسے بھی بہت اگتے ہیں۔بسا اوقات پاؤں بدبودار ہوتے ہیں۔اگر نیچے کے دھڑ میں شدید درد ہو جو بعض دفعہ فالج کا پیش خیمہ ہو جاتی ہے تو اس میں برائیٹا کارب