ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 126

126 برائیٹا کارب ہی ہوں، مؤثر ہومیو پیتھک علاج کیا جاسکتا ہے۔دیگر دواؤں کے علاوہ برائیٹا کا رب بھی بہت واضح اثر دکھاتی ہے۔اگر مختلف اعضاء اور ٹانگوں پر ٹائیفائیڈ یا پولیو کا اثر ہوتو ٹائیفائیڈ میں نسبتاً کم مگر پولیو میں نسبتا زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔اگر مکمل شفانہ بھی ہو تو اتنا نمایاں فرق پڑ جاتا ہے کہ مریض بہتر ہو جاتا ہے، سوکھتی ہوئی ٹانگ دوبارہ موٹی ہونے لگتی ہے۔ہاتھ سوکھ رہا ہوتو دوبارہ اپنی اصل حالت کی طرف آنے لگتا ہے مگر ضروری نہیں کہ ایسے ہر بیمار کو کمل شفا نصیب ہو جائے۔برائیٹا کارب کی علامتیں رکھنے والے بچے عموماً بہت جھینپنے والے ہیں۔سکول میں پیچھے پیچھے رہتے ہیں اور کوئی اجنبی آ جائے تو فوراً چھپ جاتے ہیں۔اگر اس کے ساتھ کچھ جسمانی ساخت کی خرابیاں بھی ہوں تو از ما براین کار دینی چاہئے۔بچوں کی ٹانگوں میں کمزوری کے لئے برائیٹا کارب اور کلکیریا کارب دونوں مشہور دوائیں ہیں لیکن ان میں ایک فرق بہت واضح ہے۔کلکیریا کارب کے بچوں کی ٹانگیں کمزور ہوتی ہیں۔ان میں ہڈیوں کی صحیح نشو و نما نہیں ہوتی اس لئے صاف پتہ چلتا ہے کہ کمزور ٹانگوں والا بچہ ہے جو جلدی چل نہیں سکتا لیکن پیٹ موٹا اور سر بڑا ہوتا ہے۔برائیٹا کا رب کے مریض بچوں میں جسمانی لحاظ سے ٹانگیں ٹھیک بھی ہوں تو بھی ان میں کمزوری پائی جاتی ہے اور وہ بہت دیر سے چلنا سیکھتے ہیں۔ٹانگوں کی کمزوری اور دیر سے چلنے کی علامت بوریکس اور نیٹرم میور میں بھی پائی جاتی ہے۔نیٹرم میور میں دو کمزوریاں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔مریض صرف چلنے میں ہی نہیں بلکہ بولنے میں بھی دیر کرتا ہے۔اگر مریض چلنے میں تو دیر نہ کرے مگر محض بولنا دیر سے سیکھے تو ایسے مریض کے لئے کالی فاس بہت بہتر دوا ہے۔میرا تجربہ ہے کہ کالی فاس 6x نیٹرم میور سے ملا کر دینا دیر سے چلنے اور بولنے والے بچوں کے لئے بہت مفید نسخہ ہے۔بعض بچیوں میں یہ علامت پائی جاتی ہے کہ ان میں بلوغت کے آثار بہت دیر سے ظاہر ہوتے ہیں۔اس علامت میں برائیٹا کا رب بہت مفید ہے۔اس دوا کا سب سے زیادہ اثر گلینڈ ز پر ظاہر ہوتا ہے۔گلینڈز ( غدود ) میں سوزش ہو جاتی ہے۔جہاں جہاں بھی