ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 99 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 99

آرسینک 99 کے علاوہ بعض ایسے امراض جو بار بار پلٹ آئیں مثلاً ملیر یا وغیرہ ان میں بھی آرسینک بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ملیریا کی روک تھام کے لئے بھی یہ بہترین دوا ہے لیکن اسے اونچی طاقت میں مثلاً ایک ہزار یا ایک لاکھ طاقت میں بخار کی علامتیں ظاہر ہونے سے پہلے ہی روک تھام کی خاطر دینا چاہئے۔بخار کے دوران نہیں دینی چاہئے۔ہاں اگر بخار کی علامتیں آرسینک کا مطالبہ کریں تو بخار کے حملوں کے درمیان جب پہلے بخار کا زور ٹوٹ چکا ہو یا ٹوٹ رہا ہو تو اس وقت آرسینک بے دھڑک دی جاسکتی ہے۔نیٹرم میور کا بھی ملیریا سے گہرا تعلق ہے مگر اس میں بھی یہی احتیاط لازم ہے جو آرسینک کے متعلق بیان کی گئی ہے۔ملیریا سے مستقل نجات اونچی طاقت میں آرنیکا کو بھی بڑی شہرت حاصل ہے اور خود میرے تجربے میں آرنیکا کی یہ صلاحیت بار بار آئی ہے۔ملیریا کے تعلق میں عام طور پر ہومیو پیتھک کتب میں چائنا پر زور دیا گیا ہے لیکن میرے تجربے میں یہ اتنی کار آمد ثابت نہیں ہوئی۔آرسینک اور آرنیکا دونوں اس سے بہت بہتر دوائیں ہیں اور اسی طرح ہر قسم کے بخار کی ابتدائی اعضاء شکنی کے وقت برائیو نیا اور رسٹاکس 200 کو باری باری دینا بہت مفید ثابت ہوا ہے۔یہ اصول بہر حال ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ بیریا کے چڑھتے بخار میں دوا نہیں دینی۔ہومیو پیتھی دوا اگر مؤثر ہوگی تو پھر دوبارہ بخار ہوگا ہی نہیں یا اس کے دوسرے حملہ کی شدت پہلے سے کم ہوگی۔اسی طرح اگر بخار کا وقت بدل جائے یعنی بعد میں آنے کی بجائے جلدی آجائے یا تاخیر سے ہو تو بشرطیکہ دونوں صورتوں میں بخار کا حملہ مدہم ہو تو یہ بھی دوا کے مؤثر ہونے کی علامت ہے۔اگر علاج کے دوران ان صورتوں میں سے کوئی اثر نمودار نہ ہو تو پھر یا علاج بدلیں یا مریض کو کسی اور معالج کے سپر د کریں۔بعض دفعہ ایسے مریض کو ایلو پیتھک ڈاکٹر سے علاج کا مشورہ بھی دینا پڑے تو حرج نہیں کیونکہ جان بچانا اولین فریضہ ہے۔خشک دمہ میں جیسا کہ پہلے ذکر گزر چکا ہے آرسینک اچھا کام کرتی ہے اور اس دمہ میں بھی جس کا تعلق دل کی کمزوری سے ہو۔دل کی بیماریوں سے آرسینک کا ایک گہرا تعلق ہے۔مریض کے لئے چلنا خصوصاً بلندی پر چڑھنا بہت مشکل ہوتا ہے، چڑھتے وقت