ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 54 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 54

اليومينا 54 تمام مردانہ علامتوں میں بے طاقتی اور رات کو احتلام ہو جانا شامل ہیں۔پراسٹیٹ بڑھ جاتا ہے۔پراسٹیٹ گلینڈ کے مقام پر اور اردگرد بھراؤ اور تناؤ کا احساس رہتا ہے۔جنسی اعضاء میں نیم فالجی علامتیں ملتی ہیں جس کی وجہ سے عمومی صحت کے باوجود انسان نا کا رہ ہو جاتا ہے۔عورتوں کے جنسی اعضاء میں عموماً لمبے نزلے کے بداثرات پائے جاتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ہر قسم کا لیکوریا جاری ہو جاتا ہے اور مستقل بہتا رہتا ہے۔اسی طرح رحم کے نیچے گرنے کا احساس بھی نمایاں ہے۔کھڑے ہونے اور چلنے سے تکالیف بڑھ جاتی ہیں۔اگر سوزاک کو دوسری دواؤں سے دبا دیا گیا ہولیکن اس کے دیر پا اثر باقی رہ جائیں اور عورتوں کے اعضاء میں خصوصاً بے چینی اور گرمی کا احساس ایک مستقل بیماری بن جائے تو اس میں ایلیو مینا بھی دوا ہو سکتی ہے۔کھانسی کے ساتھ بعض دفعہ چھینکیں بھی آتی ہیں اور گلے میں ایسا احساس ہوتا ہے جیسے پرندے کے پر سے گدگدی کی جارہی ہے۔ایلیو مینا کی کمر درد میں جلن بعض دفعہ اتنی شدید ہوتی ہے جیسے ماؤف مقام پر گرم استری رکھ دی گئی ہو۔پاؤں کے تلوے کمزور اور نرم پڑ جاتے ہیں اور کچھ سوج بھی جاتے ہیں۔جس پہلو پر انسان لیٹے یا بیٹھے وہ بہت جلد سو جاتا ہے اور ٹانگوں میں سونے کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔سردی گرمی کے احساس میں ایک تضاد یہ ملتا ہے کہ مریض ٹھنڈا ہوتا ہے اور خوب اچھی طرح اپنے آپ کو لپیٹ کر رکھنا چاہتا ہے مگر اس کے باوجود چہرے پر ٹھنڈی ہوا کے جھونکے پسند کرتا ہے۔بستر کی گرمی شروع میں تو بہت پسند آتی ہے مگر گرم ہونے پر خارش کا دورہ شروع ہو جاتا ہے۔ہاتھ بہت ٹھنڈے رہتے ہیں اور سوتے وقت بہت آہستہ گرم ہوتے ہیں۔جلد عمو ما خشک رہتی ہے اور پسینہ بہت کم آتا ہے یا بالکل نہیں آتا۔مددگار دوائیں : برائیونیا دافع اثر دوائیں : اپی کاک۔کیمومیلا طاقت 30 سے سی۔ایم (CM) تک