ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 747
سپیا 747 سے بچہ کی پیدائش سہولت سے ہو جاتی ہے۔اگر یہ مدد نہ کرے تو کولو فا کلام یا لسیمیم بھی کام آ سکتی ہیں۔سپیا میں پیٹ خالی ہونے کا احساس رہتا ہے اور بہت بھوک محسوس ہوتی ہے۔سپیا میں بھوک اور کمزوری کھانے کے بعد بھی اسی طرح محسوس ہوتے رہتے ہیں۔کھانے کے باوجود آرام نہیں ملتا۔اگر ایسی عورت کا رحم نیچے گر جائے یا ریڑھ کی ہڈی کے عضلات ڈھیلے ہو جائیں تو سپیا فوراً اثر دکھاتی ہے۔یہ حمل کی قے میں بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔مزاجی علامتیں ملتی ہوں تو اس کا امتیازی نشان یہ ہے کہ کھانا کھانے کے بعد قے میں سفید دودھیا مادہ خارج ہوتا ہے۔اس کے لیکیوریا میں بھی سفید مادہ نکلتا ہے۔اس کی بیماریوں میں منہ کا مزہ اور قوت شامہ متاثر ہوتے ہیں۔اگر مریض میں سپیا کی دوسری علامتیں بھی موجود ہوں تو سپیا ہر چیز (Herpes) میں بھی مفید ہوسکتی ہے۔سپیا کے مزاجی مریض کو اس سردرد میں سپیا فوری فائدہ پہنچاتا ہے جس کے ساتھ کڑوی قے بھی آئے۔مزاجی مماثلت ہو تو آنکھ کی ہر قسم کی تکلیفوں میں سپیا مفید ہے۔مزاج سپیا کا ہو تو بہت سی جلدی امراض کا علاج بھی سپیا سے ہو سکتا ہے۔جلدی علامات بہت سی دواؤں میں مشترک ہوتی ہیں۔اگر مزاج ، ماحول اور پس منظر سپیا سے مشابہ ہو تو جلدی امراض میں فائدہ دے گی اور نہ نہیں۔سلفر کی طرح سیپیا میں پیپ اور بد بودار مادہ خارج ہوتا ہے۔ناک سے سبز رنگ کا مواد نکلتا ہے۔اگر جلد اور اندرونی جھلیوں میں انحطاط ہو تو مذکورہ علامتوں کے ہوتے ہوئے مفید ثابت ہوگی۔سپیا میں عموما قبض ہوتی ہے۔اگر اسہال شروع ہو جائیں تو اس کے ساتھ سفید چپکنے والا مادہ بھی نکلتا ہے۔سخت فضلہ اور پیچش میں بھی یہ سفید مادہ ہوتا ہے اور اس میں سخت بد بو ہوتی ہے۔بواسیر کے مسے بھی بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں۔پیشاب میں خون