ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 742
742 تیز در داٹھتا ہے جو بائیں کنیٹی کی طرف بڑھتا ہے۔چھینکیں آتی ہیں اور گلے میں جلن کا احساس ہوتا ہے۔دانت بہت حساس ہو جاتے ہیں۔چہرے کے بائیں طرف درد ہوتا ہے۔منہ، تالو اور گلاخشک ہوتے ہیں اور نگلنے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔پیٹ کے درد میں اجابت کے بعد افاقہ محسوس ہوتا ہے۔پانی کی طرح پتلے اسہال آتے ہیں جن میں سخت ٹکڑے بھی ملے ہوتے ہیں۔پیشاب بہت کم مقدار میں آتا ہے۔اس کا رنگ گہرا ہوتا ہے اور بعض اوقات اس میں خون کی آمیزش بھی ہوتی ہے اور پیپ بھی آتی ہے۔جلن کا احساس اور بار بار حاجت محسوس ہوتی ہے۔بچوں میں بھی مثانے کی بے چینی کی یہ علامت پائی جاتی ہے جس کے ساتھ سر اور پیٹ میں درد ہوتا ہے۔نو جوان بچیوں میں بعض دفعہ حیض کا خون جاری ہونے سے پہلے گلے، سینے اور مثانے میں سوزش محسوس ہوتی ہے۔حیض کے ایام ختم ہونے کے بعد یہ تکلیفیں خود بخو د دور ہو جاتی ہیں۔اگر عورتوں میں کسی وجہ سے حیض رک جائے اور اس کی بجائے ناک سے خون جاری ہو جائے تو اس میں بھی سینیشو مفید ہو سکتی ہے۔اگر رحم اپنی جگہ سے مل جائے، پیشاب درد کے ساتھ آئے یا بالکل بند ہو جائے، گردوں میں شدید سوزش ہو اور سردی لگ کر بخار چڑھے تو یہ ساری علامتیں سینیشو کا تقاضا کرتی ہیں۔سینیشو میں تکلیفیں دو پہر اور رات کو بڑھ جاتی ہیں۔کھلی ہوا میں نزلہ زکام ہو جاتا ہے۔عورتوں کی تکلیفیں حیض جاری ہو جانے سے کم ہو جاتی ہیں۔مریض کی توجہ کسی اور طرف پھیر دی جائے تو تکلیف کا احساس کم ہو جاتا ہے۔طاقت 30 سے 200 تک