ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 691
پلسٹیلا 691 پلسٹیلا میں جسم کے کسی ایک حصہ میں رگیں پھول جاتی ہیں اور ان میں خون جم جاتا ہے۔رگوں کا جالا بن جاتا ہے اور سوزش بھی نمایاں ہوتی ہے۔عموما حمل کے دوران پنڈلیوں اور ٹانگوں پر یہ تکلیف حملہ کرتی ہے۔(اس کی تفصیلی بحث ایسکولس وغیرہ میں کی جا چکی ہے۔یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔اس کے ساتھ السر اور زخم بننے کا رجحان بھی ہو تو پلسٹیلا بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔پلسٹیلا نزلاتی بیماریوں میں بھی مفید ہے۔یہ دائمی نزلہ یا اندرونی جھلیوں کی بیماریوں کو ٹھیک کرتی ہے۔ایسا نزلہ چھاتی میں اترتا ہے تو گاڑھی بلغم نکلتی ہے۔صحیح دوا کھانے سے اللہ کے فضل سے جلد آرام آجاتا ہے۔نزلاتی تکلیفیں چونکہ ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں اس لئے ان میں فرق کرنا بہت مشکل ہے۔ناک بند ہو تو اکثر پلسٹیلا ذہن میں آتی ہے۔تاہم اور بھی بہت سی دواؤں میں یہ علامت پائی جاتی ہے جس کی تفصیل مختلف ابواب میں مذکور ہے۔ناک بند بھی ہوتا ہے پھر بھی کچھ نہ کچھ نزلہ جاری رہتا ہے۔نکس وامیکا اور کوکس (Coccus) بھی اس میں مفید ہیں۔مریض کے مزاج کو پیش نظر رکھ کر دوا تلاش کرنی چاہئے۔جو بچیاں جوانی کی عمر کو پہنچ رہی ہوں ان کے لئے کلکیر یا فاس کی طرح پلسٹیلا بھی بہت اہم دوا ہے۔پاؤں بھیگ کر ٹھنڈ لگنے سے اگر حیض بند ہو جائیں یا بہت دیر میں آئیں تو پلسٹیلا اچھا اثر رکھتی ہے۔پلسٹیلا کی مریض عورتوں کو سارا مہینہ یہ احساس رہتا ہے کہ حیض آنے والے ہیں لیکن آتے نہیں۔عورتوں کے حیض ختم ہونے کے زمانے میں پیدا ہونے والی تکلیفوں میں بھی پلسٹیلا بہترین دوابیان کی جاتی ہے۔اسے کیلیس با بیلا ڈونا سے ملا کر دینے سے کافی مفید نتائج نکلتے ہیں۔عموماً چہرے پر گرم ہوا کے جھونکے محسوس ہوتے ہیں اور چہرہ سرخ ہو جاتا ہے۔خون کی کمی کی شکار عورتوں میں حیض کا وقت لمبا ہو جائے تو خون پتلا ہو جاتا ہے۔چونکہ پلسٹیلا خون کی کمی کی بھی بہترین دوا ہے۔اس لئے ایسی عورتوں کو پلسٹیلا دی جائے تو حیض بالکل رک جاتا ہے لیکن چند مہینوں میں خون کی کمی پوری ہونے کے بعد پھر خود بخود معتدل طریق پر جاری ہو جاتا ہے۔پلسٹیلا خون کی کمی دور