ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 635 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 635

نیٹرم سلف 635 تین بار دیں۔اگر معدے میں ہوا بند ہو اور شدید بل پڑیں یا پیٹ کے غدود بڑے ہو کر گلٹیاں بن جائیں تو اس میں بھی نیٹرم سلف مفید ہے۔گرمی کی وجہ سے اچانک اسہال شروع ہو جائیں جن کا رنگ سبزی مائل ہو، پرکاری کی طرح آئیں اور مقدار میں بہت زیادہ اور متعفن ہوں تو اور بہت سی دواؤں کے علاوہ نیٹرم سلف بھی دوا ہوسکتی ہے۔یہ جگر کی بہترین دواؤں میں شمار کی جاتی ہے۔اگر شوگر کے بغیر بھی پیشاب بار بار آئے اور رات کو جلد جلد اٹھنا پڑے تو نیٹرم سلف کو بھی آزمائیں۔بعض اوقات ذہنی دبا دیا موسم کے بدلنے کی وجہ سے رات کو بار بار پیشاب آتا ہے۔اس میں آرسنک اور دیگر اعصابی دوا ئیں زیادہ مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔ایک نسخہ کام نہ کرے تو حسب حالات دوسر انسخہ استعمال کر کے دیکھنا چاہئے۔اگر پراسٹیٹ گلینڈ بڑھ جائے اور نیٹرم سلف کی دوسری علامتیں بھی موجود ہوں تو نیٹرم سلف اکیلی ہی کافی ہوتی ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ ساتھ نیٹرم فاس 30 یا200 طاقت میں دی جائے۔سینہ میں کھڑ کھڑاہٹ ہو اور لیس دار بلغم نکلے نیز کھانسی آنے پر سینہ میں پھوڑے کی طرح درد ہو اور کھانسی مزمن ہو جائے تو یہ دوا کام آ سکتی ہے۔مریض کو گہرا سانس لینے کی تمنا ہوتی ہے۔سینے میں خصوصاً بائیں طرف درد ہوتا ہے۔نیٹرم سلف مینجائنٹس یعنی گردن توڑ بخار یا دماغ کی سوزش میں بہت اونچا مقام رکھتی ہے۔اگر کسی بچے کو مینجائش ہو جائے تو سب سے پہلے فیرم فاس ، سلیشیا ، کالی میور ، میگ فاس اور کالی فاس 6x میں دیں۔ساتھ ہی نیٹرم سلف 200 طاقت میں دو تین بار دیں۔یہ مینجا ئٹس کا بہت مؤثر نسخہ ثابت ہوا ہے۔اگر فوری طور پر جھلیوں کے اس ورم کا علاج نہ کیا جائے تو بعض اوقات مستقل مرگی کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔خاص طور پر اگر اینٹی بائیوٹک دواؤں سے بخار دبا دیا جائے تو خطرہ ہوتا ہے کہ دماغ پر دائگی اثر رہ جائے گا۔اس لئے مذکورہ بالا نسخہ اور نیٹرم سلف پر ہی اکتفا کرنا چاہئے۔چند