ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 621
نیٹرم میور 621 گھٹنوں نیٹرم میور کا مریض اکثر کمر درد کا شکار رہتا ہے۔بازوؤں ، ٹانگوں خصوصاً میں کمزوری کا احساس ہوتا ہے۔ہاتھ کے ناخنوں کے ارد گرد کی جلد خشکی سے پھٹ جاتی ہے۔ٹانگیں بے حس ہو جاتی ہیں۔نیٹرم میور کا مریض ڈبل روٹی ، چکنائی اور روغنی غذا کو پسند نہیں کرتا۔بھوک بہت لگتی ہے لیکن کھانے کے بعد تھکاوٹ اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔سینہ میں جلن کا احساس،جگر کے مقام پر سختی اور سوئیاں چھتی ہیں۔کھانا کھانے کے بعد بھاری پن اور تناؤ کا احساس شروع ہو جاتا ہے۔معدے میں شدید کمزوری کے دورے پڑتے ہیں۔نیٹرم میور کے مریض کے اعصاب تنے ہوئے ہوتے ہیں اور اسے ذرا سا بھی شور برداشت نہیں ہوتا۔اچانک کوئی آواز آ جائے تو سر درد ہونے لگتا ہے۔کاغذ کی سرسراہٹ بھی بری لگتی ہے۔نیٹرم میور کا مریض بالکل ٹھنڈا ہوتا ہے۔لیکن گرم کمرے میں تکلیفیں بڑھتی ہیں۔کھلی ہوا پسند کرتا ہے۔اس پہلو سے اس کا نصف مزاج پلسٹیلا سے ملتا ہے۔ٹھنڈا ہونے کے باوجود باہر نکلنا پسند کرتا ہے۔کھلی ہوا میں جسمانی تکلیفیں کم ہو جاتی ہیں لیکن ذہنی تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔دوا کے مزاج کی اس قسم کی باریکیوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔نیٹرم میور کے مریض کا مزاج جلد جلد بدلتا ہے۔جب اسے پسینہ آتا ہے تو فوراً نزلہ شروع ہو جاتا ہے لیکن اس نزلہ کوکھلی ہوا میں افاقہ ہوتا ہے۔نیٹرم میور کا اثر جلد پر بھی ظاہر ہوتا ہے۔ایگزیما، خارش اور سوزش بالوں کے کناروں پر زیادہ ملتے ہیں۔یہ نیٹرم میور کی خاص علامت ہے۔خشک دانے بھی نکلتے ہیں اور بہنے والے زخم بھی ہوتے ہیں۔جلد میں خارش اور سوئیاں چھتی ہیں۔خارش کے دانوں سے رطوبت بہتی ہے۔مختلف ٹکڑوں میں کھرنڈ بن کر اترنے لگتے ہیں۔نیٹرم میور کی ایک علامت سارسا پر یلا (Sarsaparrila) سے ملتی ہے کہ چھوٹی عمر میں ہی بڑھاپے کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں۔نیٹرم میور میں سر کا دردرات سونے کے بعد تیسرے پہر شروع ہوتا ہے یا پھر صبح نو بجے۔