ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 594
مرکزی 594 میں مرکزی دینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔مزمن بیماریوں میں دوا کی طاقت کو رفتہ رفتہ اونچا کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن علاج کا آغاز چھوٹی طاقت سے کرنا چاہئے۔یہی محفوظ طریق علاج ہے۔مرکزی کا ایک خاصہ یہ ہے کہ جوڑوں اور بائی کے دردوں میں ورم اور سوزش ضرور ملتے ہیں۔بستر کی گرمی اور پسینہ آنے سے تکلیف بڑھ جاتی ہے۔پسینہ بہت آتا ہے لیکن اس سے مریض بہتر محسوس نہیں کرتا۔بار بار پسینہ آتا ہے لیکن بے چینی اسی طرح قائم رہتی ہے۔اگر گلے کے غدود متورم ہوں اور بخار ہو جائے تو پسینہ آنے سے بخار ٹوٹنے کی بجائے مرض اور بھی گہرائی میں اتر جاتا ہے۔مرکزی کی دو تین خوراکیں دینے سے دبا ہوا بخار پہلے ابھرتا ہے اور پھر ٹوٹنے لگتا ہے۔بار بار کا پسینہ آنا بند ہو جاتا ہے اور ایک ہی دفعہ بہت کھل کر پسینہ آتا ہے۔اس بخار میں جس کا ایک علاج مرکزی بھی ہے بچوں کی آنکھیں ایسی چمکیلی ہو جاتی ہیں جیسے وارنش کر دیا گیا ہو۔ایسی ہی آنکھیں خسرہ اور کا کڑا الا کڑا وغیرہ میں بھی ملتی ہیں جب تک ان کے دانے یا چھالے کھل کر ابھر نہ آئیں آنکھوں کی یہ چمک باقی رہتی ہے۔بچوں کے سانس میں سخت بو آنے لگتی ہے اور انہیں سرسام بھی ہو جاتا ہے اور مختلف نظارے نظر آتے ہیں۔اگر مرکری کام نہ دے تو ہسپر سلف دینی چاہئے۔اگر وہ بھی کام نہ آئے تو پھر سلیشیا خدا تعالیٰ کے فضل سے ضرور شفا کا موجب ہو جاتی ہے۔ان تین دواؤں کے دائرے میں عموما مرض قابو میں آ جاتا ہے۔میں اس قسم کی بیماریوں میں ایک بائیوکیمک نسخہ بھی استعمال کرتا ہوں۔نیٹرم فاس، فیرم فاس، سلیشیا، کالی میور، کلکیر یا فاس اور اگر گلے پھولے ہوئے ہوں تو کلکیر یا فلور ملا کر اس مکسچر کی خوراک بار بار دینی چاہئے۔یہ نسخہ اکثر بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔اگر مرض پھر بھی قابو میں نہ آئے اور مرکری کی علامات نمایاں ہوں تو پھر مرکزی ضرور دی جائے مگر ہمپر سلف کے بعد۔اگر جلد پر زخم بنے لگیں جو ناسور کی شکل اختیار کر لیں اور ان کے کنارے ابھرے ہوئے ہوں اور خدشہ ہو کہ گینگرین نہ ہو جائے تو اس صورت میں مرکسال کی بجائے