ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 589
میڈورا میکنم 589 دردیں ہوں یا شیاٹیکا (Sciatica) ہو جائے تو ان سب تکلیفوں میں گہری چھان بین سے علامتی دوا کی تلاش کرنی چاہئے۔اگر اس طرح تشخیص نہ ہو سکے یا تشخیص کام نہ کرے تو پھر میڈ ورا ئینم کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔اونچی طاقت میں دے کر ہفتہ دس دن تک اس کا اثر دیکھنا چاہئے۔ایک دفعہ ایک مریض کو میں نے اس کی علامات کے لحاظ سے دوا دینے کی کوشش کی۔وہ کولو سنتھ کا مریض تھا۔اسے بہت اچھا فائدہ ہو رہا تھا لیکن ایک مقام پر مزید فائدہ رک گیا تو میں نے کولوسنتھ اونچی طاقت میں دینے کی بجائے اسے میڈ ورائینم دے دی۔اس کی پہلی علامتیں فوراً واپس آگئیں اور شدید درد ہونے لگا۔اگر میں اونچی طاقت میں میڈ وراٹینم سے ہی علاج جاری رکھتا تو ہوسکتا ہے کہ اسی سے اس کی بیماری جڑ سے اکھڑ جاتی مگر اس مریض میں بھی صبر کی کمی تھی۔اس لئے میڈ ورائیٹنم کے بعد پھر کولو سنتھ دینا زیادہ مناسب سمجھا اور اس دفعہ اس نے اثر بھی پہلے سے بہتر دکھایا۔بعد کا مجھے علم نہیں کہ اس سے اسے مکمل شفا ہو گئی تھی یا نہیں۔جب کمر کی تکلیف کا ٹانگوں پر اثر ہوتو ایسا بھاری پن پیدا ہو جاتا ہے کہ لگتا ہے کہ ٹانگیں لکڑی کی بنی ہوئی ہیں۔یہ بھی میڈ ورائینم کی ایک پہچان ہے۔بعض اوقات تشیخ سے بھی دوران خون بند ہو جاتا ہے اور اس دوا میں بھی تشیخ پایا جاتا ہے، خاص طور پر پنڈلیوں میں۔اگر زیادہ دیر کھڑے رہنے سے شیخ ہو جائے تو میگ فاس بھی مفید ہے لیکن میڈ ورا ئینم میں شیخ تلووں میں بھی ہوتا ہے اور پاؤں مڑنے اور اندر کی طرف سکڑنے کا احساس ہوتا ہے۔میڈورائینم کی کئی تکالیف سورج کی تمازت سے بڑھتی ہیں۔مرطوب موسم میں اور سمندر کے کنارے آرام آتا ہے۔لیکن بعض تکلیفیں رات کو بڑھتی ہیں جن کا اوپر تفصیلی ذکر آچکا ہے۔طاقت: 30 سے CM تک