ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 536 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 536

لیک ڈیف 536 لیک ڈیف کا مریض سوتے ہوئے دانت آپس میں کٹکٹاتا ہے۔اگر پیٹ میں کیڑے ہوں تو بچے سوتے ہوئے دانت رگڑتے ہیں یا جبڑوں میں سوجن ہو جائے تو اس کے نتیجہ میں بھی بچہ دانت کٹکٹاتا ہے۔اسی طرح معدہ کی خرابی خواہ پیٹ میں کیڑے نہ بھی ہوں لیکن دودھ ہضم نہ ہو تو تب بھی بچہ دانت کٹکٹاتا ہے۔یہ تینوں احتمالات ہیں جنہیں پیش نظر رکھنا چاہئے۔اگر پیٹ میں کیڑے ہوں تو بچے کی ناک کے اوپر سخت کھجلی ہوتی ہے اور کنارے زرد ہو جاتے ہیں۔ہونٹوں کے کناروں پر بھی زردی پائی جاتی ہے۔دوسری علامت یہ ہے کہ مریض سخت بھوک محسوس کرتا ہے۔ان دونوں علامتوں میں سائنا (Cina) چوٹی کی دوا سمجھی جاتی ہے اور سباڈیلا (Sabadilla) بھی بہت مفید ہے۔لیک ڈیف میں تیسری علامت متلی کی ہے جس کے ساتھ قے کا رجحان نہیں ہوتا اور قے شاذ کے طور پر ہوتی ہے۔اس لحاظ سے یہ اپی کاک سے مشابہ ہے مگر اپی کاک میں قے کارجحان نسبتاً زیادہ ہے۔لیک ڈیف کے مریض کی قبض بہت شدید ہوتی ہے۔قبض کے نکتہ نگاہ سے یہ سلیشیا سے بھی زیادہ سخت علامتوں کی حامل ہے۔بعض دفعہ زور لگانے سے رگیں پھٹ جاتی ہیں لیکن اجابت نہیں ہوتی۔ایسے مریضوں کو بواسیر یا ہر نیا کی شکایت بھی ہو جاتی ہے۔لیک ڈیف میں سردرد کے ساتھ کھلا پیشاب آتا ہے جو جلسیمیم کی بھی علامت ہے۔جلسیمیم بھی ٹھنڈے مزاج کی دوا ہے لیکن ایک فرق یہ ہے کہ لیک ڈیف میں سخت پیاس ہوتی ہے جبکہ جلسیم میں پیاس مفقود ہوتی ہے۔لیک ڈیف میں پیشاب مقدار میں زیادہ اور ہلکے پہلے رنگ کا ہوتا ہے لیکن بعض دفعہ گاڑھا اور سیاہی مائل بھی ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ البو من (Albumen) آ رہی ہے۔اگر باقی علامتیں بھی لیک ڈیف کی ہوں تو یہ بہت مفید ثابت ہوگی۔لیک ڈیف کی ایک عجیب علامت جو غالباً مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ نمایاں ہوتی ہے یہ ہے کہ اگر بہت سردی کے موسم میں باہر نکلیں تو پیشاب پر کنٹرول نہیں رہتا